چیف جسٹس کا شراب پر ردعمل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا شرجیل میمن کی شراب بوتلوں کے لیبارٹری نمونوں کی رپورٹ پر ردعمل سامنے آیا ہے ۔

سپریم کورٹ میں ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں کراچی سب جیل گیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق کراچی سب جیل تو صدارتی محل بنا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بڑا شور پڑا ہوا ہے کہ پتہ نہیں چیف جسٹس نے کیا کردیا، کہتے ہیں کہ یہ میرا نہیں، میرے بارے میں کہا مجھے ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں شراب وراب کی بات نہیں کرتا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پکڑنا ہوتا اسی وقت گرفتار کردیتا، چیف جسٹس نے شرجیل میمن کا نام لیے بغیر ریمارکس دیے کہ اگر کرتا تو اسی وقت ٹیسٹ کرواتا، چیف جسٹس نے کہا کہ پتہ نہیں یہ نمونے کس طرح تبدیل ہوگئے، نمونے کس طرح لیبارٹری گئے اور سب کیسے ہوا، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ۔

چیف جسٹس نے سندھ کے چیف سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تو کوئی شہد کی بوتل دیکھ کر نہیں آیا تھا، آپ نے ان کو شک کا فائدہ دے دیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف سیکرٹری نے کہا کہ اگر اس معاملے میں کی گئی تو عدالت کو رپورٹ دیں گے، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے شراب پکڑوانی ہوتی تو اسی وقت پکڑوا دیتا، اسی وقت شراب رکھنے والوں کو گرفتار کروا دیتا، شرجیل میمن نے بھی شراب کا انکار نہیں کیا، شرجیل نے صرف یہ کہا کہ یہ میری نہیں، بڑے آدمی کو بیماری کے نام پر اسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے، کسی اور کو لٹا کر ایم آر آئی کر دیا جاتا ہے ۔

متعلقہ مضامین