نادرا، الیکشن کمیشن – آر ٹی ایس

عبید عباسی

سینٹر اسد جنیجو کے نادرا اور الیکشن کمیشن کے افسران سے چبھتے ہوئے سوالات مگر جواب بھی ۔ آر ٹی ایس نظام بند ہونے کا بنیادی سوال نہ ہو سکا ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینٹر اسد خان جونیجو کے آج نادرا اور الیکشن کمیشن کے افسران کو اس وقت مشکل میں ڈالا جب ان سے برائے راست ایک گھنٹہ RTS اور RMS سے متعلق سینٹ کی داخلہ کمیٹی میں بنیادی سوالات کیے جسکے بند کیے جانے یا بند ہو جانے پر الیکشن 2018 کو متنازعہ بنا دیا ھے۔

سینٹر اسد خان جونیجو جو خود بھی IT ایکسپرٹ ہیں اور سابق وزیراعظم خان محمد جینجو کے صاحِبزادے ہیں نے آج سینٹ کی داخلہ کی کمیٹی میں خصوصی طور پر نادارہ اور الیکشن کمیشن کے IT ایکسپرٹ سے مشکل سوالات کہے جہنون نے یہ سیسٹم بنایا جو جولائی 25 کی شام اچانک بند ہو گیا۔ سینٹر اسد جنیجو نے پوچھا کہ RTS اور.RMS کس نے بنایا؟ الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ یو این ڈی پی کے ساتھ ملکر بنایا گیا جسمیں پی ٹی سی ایل اور نیا ٹیل انٹریٹ سورس استعمال کہی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر میں جگہ ہونے کے باوجود RTS کا میں سرور الیکشن کمیشن میں رکھا گیا جس پہ ایک سوال اٹھتا ھے ۔ اسد جینجو نے ان افسران کے نام بھی پوچھے جن کو صرف اس سرور روم میں جانے کی اجازت دی۔ نادارہ اور الیکشن کمیشن کے آہی ٹی حکام نے سینٹر اسد جینجو کے سخت سوالات کا سامنا تو کیا لیکن اسمیں انکو کافی مشکل بھی پیش آہی اور ایک ایکا وقت بھی آیا جب چئرمین نادارہ عثمان مبین اور سیکٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کو بہت سی چیزوں کی خود وضاحت کرنی پڑی

سنٹر اسد جینجو نے نادارہ اور الیکشن کمیشن کے حکام سے مزید پوچھا کہ جولائی 25 سے لے کر اب تک ساری چیزوں کا ریکاڈ آسانی سے نکالا جاسکتا ھے. تاکہ پتہ لگ سکے کہ سیسٹم کو ہیک تو نیں گیا یا الیکشن کے رزلٹ کی معلومات inroute تو نیں تھی۔ حکام نے بتایا کہ ایک ایک حرف 25 جولائی سے اب تک محفوظ ھے جسکو کسی بھی قوت Audit کیا جاسکتا ھے۔ اس وقت کمیٹی ممبران بالخصوص مسلم لیگ نو نے سینٹرز کو کافی تسلی ہوہی اور کمیٹی کے چیرمین نے سینٹر رحمان ملک نے تجویز کیا کہ !RTS کے failure کا آڈٹ کرایا جائے ۔

آڈیو کلپ اور خاموش

کمیٹی میں اس وقت مکمل خاموشی چھا گئی جس نے بہت سے صحافیوں جسمیں سینر صحافی متی الله جان اور اعزاز سید شامل ہیں نے ایک جستجو میں مبتلا کیے رکھا، جب کمیٹی کے چیرمین سینٹر رحمان ملک نے ایک آڈیو کلپ دو مرتبہ چلایا جسمیں الیکشن کمیشن کا ایک اہلکار 25 جولائی کو یہ الیکشن عملے ھدایات جاری کر رہا ~ھے ”

اگر _RTS نیں چل رہا تو کوہی مسئلہ نیں form 45 is not mandatory "فارم 45 کے بجائے فارم 47 استمال کریں، اسکے written آرڈر بھی اپکو مل جاہیں گے_~ ”

اس آڈیو کلپ نے یقینا بہت سے سوالات کو جنم دیا ھے اور اگلی مینٹگ میں سیکرٹری الیکشن کمیشن وضاحت بھی فرماہیں گے۔ آج کی مسلسل 3گھنٹے کی مینٹگ میں الیکشن کمیشن وضاحت نیں دے سکے۔ جسکا ہدف صرف RTS کے Failure کی. !Technical ساہڈ کو کور کرنا تھا۔

کمیٹی کے اختتام پہ سینئر صحافی نے سینٹر رحمان ملک سے برارست ایک چھوٹے سے سوال کی جسارت کی اور پوچھا کہ کیا RTS کو بند کیا گیا تھا ۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کمیٹی کا کام اس سسٹم کے failure کا تعین کرنا ھے، کسی پہ الزام نیں لگا سکتے، البتہ انھوں نے بھی ایک خدشے کا اظہار کیا۔

کمیٹی کی اگلی مینٹگ 5 یا 6 سبتمر کو پھر متوقع ھے۔ آنے والے دنوں میں بہت سی چیزیں مزید واضح ہو جاہیں گی۔ کمیٹی کے چیرمین نے تمام سیاستدانوں کو بھی ایک performa دیا ھے جسمیں وہ اپنے تحففظات سے آگاہ کریں گے، پھر انکو تمام کو کمیٹی میں مدہو کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین