جلال الدین حقانی

محمد اشفاق

جلال الدین حقانی کی وفات کے ساتھ بلاشبہ بیسویں صدی کی مسلم جہادی تنظیموں کی تاریخ کا ایک باب بند ہو گیا ہے ۔ جلال الدین حقانی کے نظریات یا طریقہ کار سے سو اختلافات کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ان جیسا ملٹری کمانڈر جہادی تنظیموں میں شاید ہی کوئی اور ہو۔ حقانی ایک لیونگ لیجنڈ تھے، اسامہ بن لادن میں حقانی کے بیس فیصد بھی عقل، شعور اور لچک ہوتی تو شاید ماڈرن جہاد کی تاریخ مختلف ہوتی۔

جلال الدین حقانی 1939 میں افغان پکتیا صوبے کے ایک گاؤں کاریزگے میں پیدا ہوئے۔ 1964 میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پشاور میں کچھ عرصہ قیام فرمایا۔ افغانستان میں داؤد خان کی حکومت کے خلاف سازش میں نام سامنے آنے کے بعد جلاوطنی اختیار کر کے میران شاہ آ گئے، اور یہیں سے روسی فوجوں کے خلاف منظم جہاد کا حصہ بنے۔ روس کے خلاف جنگ میں آپ مولوی یونس خالص کی حزب اسلامی میں شامل رہے۔

جہاد افغانستان کے ابتدائی برسوں ہی میں جلال الدین حقانی سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے لاڈلے ترین جہادی کمانڈرز میں سے ایک بن گئے۔ ان کی اس دور میں سب سے بڑی طاقت ان کا پکتیا اور خوست میں موجود مضبوط نیٹ ورک تھا، ان کا خاندان ٹرانسپورٹ اور تجارت کے شعبوں سے وابستہ تھا۔ اپنے تعلقات اور تنظیمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے حقانی نے مجاہدین کو اسلحے اور دیگر سپلائیز کی ترسیل کا ایک شاندار نیٹ ورک بنایا جو صرف پکتیا اور خوست تک محدود نہیں تھا بلکہ کابل اور اس سے آگے تک پھیلا ہوا تھا۔ جلال الدین حقانی نے صرف جہاد نہیں کیا، بے تحاشا پیسہ بھی کمایا۔ پیسہ تو درجنوں جہادی کمانڈرز نے کمایا ہوگا مگر اس کا جتنا مناسب اور درست استعمال حقانی نے اپنی طاقت اور اثرورسوخ بڑھانے کیلئے کیا، اس کی کم از کم افغانستان میں مثال نہیں ملتی۔

جلال الدین حقانی جتنے اچھے کمانڈر تھے، اتنے ہی زبردست منتظم بھی تھے۔ اپنے بھائیوں، بیٹوں اور قریبی ساتھیوں کو الگ الگ شعبوں کا نگران بنا کر، پیسے اور طاقت کے مناسب استعمال سے انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کا نیٹ ورک مجاہدین کی باہمی چپقلشوں کا شکار نہ ہونے پائے۔ اس کی طاقت برقرار رہے اور پیسہ آتا رہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب جہاد افغانستان کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک چارلی ولسن، حقانی کو "سراپا نیکی” goodness personified کہا کرتے تھے۔

اسامہ بن لادن اور دیگر عرب جہادیوں سے حقانی کے تعلقات اسی کی دہائی ہی سے بہت خوشگوار چلے آ رہے تھے، حقانی نے ایک عرب خاتون سے شادی بھی کی جن سے ان کے بیٹے نصیرالدین حقانی پیدا ہوئے۔ عربوں کو وزیرستان میں لا کر بسانے والوں میں بھی آئی ایس آئی کے ساتھ حقانی پیش پیش رہے۔ عربوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کر کے بھی انہوں نے کافی کچھ حاصل کیا۔

روسی افواج کے انخلاء کے بعد حقانی کی قیادت میں حزب اسلامی نے خوست فتح کیا۔ یہ نجیب اللہ حکومت کے خلاف جہادیوں کی اس وقت سب سے بڑی کامیابی تھی۔ کابل کی فتح کے بعد جو مخلوط حکومت بنی اس میں حقانی کو غالباً قانون اور انصاف کی وزارت ملی۔ اس وقت کے افغانستان میں قانون اور انصاف دونوں ناپید تھے۔ گلبدین اور احمد شاہ مسعود کی جنگ میں حقانی بالکل غیرجانبدار رہے اور انہوں نے خانہ جنگی سے خود کو دور رکھا، جس سے ان کی عزت اور تکریم میں بہت اضافہ ہوا۔
طالبان سے بھی جلال الدین ابتدا میں الگ تھلگ رہے تاہم کابل پر طالبان کی فتح سے کچھ ماہ قبل غالباً آئی ایس آئی کی کوششوں سے آپ نے طالبان کا حصہ بننا اور ملا عمر کی بیعت کرنا قبول کیا۔ طالبان دور میں آپ خوست کے گورنر بھی رہے اور سرحدی امور کے وزیر بھی، نائن الیون کے بعد 2001 میں انہیں طالبان کا ملٹری کمانڈر بنا دیا گیا۔

نائن الیون کے بعد ابتدا میں سی آئی اے کی بھرپور کوشش رہی کہ پرانے تعلقات کے ناطے کسی طرح حقانی کو طالبان اور القاعدہ سے توڑا جا سکے، اس مقصد کیلئے ان سے کئی رابطے ہوئے، پیغامات بھجوائے گئے مگر حقانی نے سب پیشکشیں ٹھکرا دیں۔ حامد کرزئی نے افغان صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پشاور کے دنوں کے دوست جلال الدین حقانی کو کابینہ میں شامل ہونے کی پیشکش کی، حقانی مگر بدستور طالبان کا ساتھ نبھاتے رہے۔

جب تک سی آئی اے کو امید تھی کہ حقانی کو توڑا جا سکتا ہے تب تک انہوں نے آئی ایس آئی اور حقانی نیٹ ورک کے باہمی تعاون کو بھی نظرانداز کیا مگر مایوس ہونے کے بعد ان کا پاکستان سے مسلسل یہ مطالبہ رہا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے۔ پاکستان سرکاری طور پر حقانی نیٹ ورک سے کسی تعاون کی تردید کرتا ہے۔
جلال الدین حقانی نے طالبان سے وفاداری کی بہت بھاری قیمت چکائی۔ ان کے چار بیٹے بدرالدین حقانی، محمد حقانی، انس حقانی اور عمر حقانی 2008 سے اب تک افغانستان میں شہید ہو چکے۔ پانچویں بیٹے نصیرالدین حقانی جن کی والدہ عرب تھیں، اسلام آباد میں مقیم تھے اور انہیں عربی، انگریزی، اردو اور فارسی میں مہارت کے سبب حقانی نیٹ ورک کے کوارڈینیٹر اور ترجمان کا درجہ حاصل تھا۔ 2013 میں بھارہ کہو اسلام آباد میں ایک پراسرار حملے میں نصیرالدین حقانی مارے گئے۔ ان کے قتل کا الزام سی آئی اے، ائی ایس ائی، را اور جانے کن کن پر لگایا جاتا ہے-

سراج الدین حقانی ابھی زندہ ہیں اور گزشتہ کم از کم ایک دہائی سے عملی طور پر حقانی نیٹ ورک کو وہی چلا رہے ہیں۔ سراج الدین حقانی کی شخصیت بہت سے اسرار اور پردوں میں ڈھکی ہوئی ہے- حقانی نیٹ ورک کے اندر کے بہت سے لوگ بھی ان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے یا شاید بتاتے نہیں ہیں۔ یہی پراسراریت شاید اب تک سراج الدین کو بچائے ہوئے ہے- افغانستان میں خودکش حملوں کی ابتدا بھی جلال الدین حقانی سے منسوب کی جاتی ہے، انہیں اس طرز کی جنگ پر مائل کرنے کا سہرا سراج الدین حقانی کے سر باندھا جاتا ہے، اس کے علاوہ مجھے ان کے متعلق کچھ علم نہیں۔

جلال الدین حقانی بہت عرصے سے علیل تھے، ان کے کراچی میں علاج کی خبریں بھی سننے میں آئی تھیں۔ بہت عرصہ یہ بھی سنا کہ نصیرالدین حقانی کے ساتھ اسلام آباد مقیم رہے۔ 2015 میں بھی آپ کے انتقال کی خبریں سنی تھیں، آج بالآخر ان کی موت کی طالبان نے بھی تصدیق کر دی۔
اسامہ بن لادن، ملا عمر اور جلال الدین حقانی میں سے کوئی بھی میرا ہیرو ہے نہ رول ماڈل مگر ان سب کی وفات پر جس طرح میرا دل خون کے آنسو روتا ہے وہ میرے لئے بھی حیرت کا باعث ہے۔ آج یوں لگ رہا کوئی بہت قریبی عزیز مر گیا ہو۔

جلال الدین حقانی! آپ نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ کبھی آپ جیسوں کیلئے مجھ جیسے روئیں گے۔ کبھی آپ کو قریب سے دیکھنے کی بڑی خواہش تھی، اب یہ خواہش دیکھیں جنت میں پوری ہوتی ہے یا جہنم میں یا پھر کہیں بھی نہیں۔

اللہ پاک آپ کو معاف کرے اور اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے