درگزر کیا کریں

محمد عاصم
جب کوئی بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو سب سے زیادہ خوشی اس کے والدین کو ہوتی ہے۔ والدین کو دعاوں اور منتوں سے اللہ تعالی اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے۔ اُس کے بعد والدین اپنی اولاد کی پرورش میں جت جاتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت میں کوئی کمی نہ رہنے دیں۔ جب انسان کو عقل وبصیرت آتی ہے اور وہ مختلف لوگوں میں اُٹھاتا بیٹھتا تب اس کے مزاج میں تبدیلی آتی ہے۔ انسان مختلف لوگوں کو دیکھتا اور اُن کے مزاج کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے، اسی دوران ہر انسان کے اندار کچھ غلط عادات پیدا ہوجاتی ہیں، جو وقتی طور پر انسان کو بہت اچھی لگتی ہیں، لیکن دراصل اُس کی شخصیت کے لیئے مناسب نہیں ہوتیں۔

انسان کی شخصیت کا سب سے برُا پہلووہ ہوتا ہے جب وہ درگزر کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ خود کو برتر سمجھنے لگتا ہے اور دوسرے لوگوں کوخود سے کم تر گردانتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں سب سے زیادہ گناہ انہی لمہات میں کرتا ہے، ایک طرف تو اللہ کی نااضگی مول لیتا ہے اور دوسری طرف اس کے بندوں کی دل آزاری کرتاہے۔ تب لوگوں کی جانب سے بھی ایسے شخص کو ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔

آج کی دنیا میں انسان کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ اس نے درگزر کرنا چھوڑ دیا ہے، پیار اور محبت سے بات کرنا ترک کر دیا ہے۔ انکساری اور عاجزی انسان کے اندر سے ختم ہوگئ ہے۔ ایسی خصوصیات جوانسان کی زندگی کو خوبصورت بنا سکتی ہیں، اور انسان دوسروں کے دلوں میں گھر کر سکتاہے، ان تمام باتوں سےاس نے منہ پھیر لیا ہے۔ سائنس بھی انسان کو کسی سے ناراض ہونے سے منع کرتی ہے، کیونکہ ناراضگی اختیار کرنے سے انسان ڈپرشین کا شکار ہوتا ہے۔

کسی انسان کو زندگی میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جو بھی ہو جائے اس کے والدین اُس سے ناراض نہ ہوں کیونکہ والدین کی ناراضگی مول لینا، اللہ کی ناراضگی مول لینے کے برابر ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو ایک نہ ایک دن معاف کردیتے ہیں لیکن پھر والدین کے دل میں اولاد کے لیئے پہلے جیسا پیار نہیں رہتا۔ والدین صرف ایک رشتے کو نبہاتے ہیں جو اُن کے ساتھ جڑجاتا ہے۔

آج کی دنیا میں انسان کو بےپناہ مشکلات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی انسان پیار اور محبت کو نہیں پھیلاتا۔ لوگوں کو معاف کرنا ایک ایسا خوبصورت عمل ہے جو انسان کی زندگی سنوار دیتا ہے۔ انسان لوگوں کو معاف کر کے اللہ کہ قریب ہوجاتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو دنیا اور آخرت کی نمتعوں سے اللہ نوازتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر کوئی حضوؐر پاک کی سیرت پر بھی عمل کرتا ہے تو بحیثیت مسلمان یہ کسی بھی انسان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔

متعلقہ مضامین