جھوٹ بولو جھوٹ

اظہر سید

قوم کو کاروں کی فروخت سے تبدیلی کے نعرے کے پیچھے لگا دیا گیا ہے ۔ افسران کو ملنے والی قیمتی کاروں سے معلوم نہیں ایک ارب روپیہ بھی ملے گا یا نہیں لیکن صرف ایک ماہ جولائی میں بیرونی اخراجات میں 240 ارب روپیہ سے زیادہ کا خسارہ ہو چکا ہے ۔ اگست کے اعداد و شمار کو حتمی شکل ملے گی تو یہ خسارہ 500 ارب روپیہ تک پہنچ جائے گا ۔
نگران حکومت میں جن لوگوں نے روپیہ کی قیمت میں کمی کے فیصلے کئے ان کا تعلق نگران وزرا سے تھا اور نہ وزارت خزانہ کی بیورو کریسی سے ۔لیکن ان فیصلوں کی آڑ میں اینگرو فرٹیلائزر ،فوجی فرٹیلائزر اور فاطمہ فرٹیلائزر کو کھاد کی قیمتوں میں 200 روہیہ سے زیادہ فی بوری اضافہ کا موقع مل گیا ۔ان فیصلوں کی وجہ سے ایل پی جی سلینڈر کی قیمت 1400 سو روپیہ سے بڑھ کر 18 سو روپیہ پر پہنچ گئی ہے اور ابھی موسم سرما کا آغاز بھی نہیں ہوا ۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ملک میں تبدیلی آئی ہے جنوری میں ہپمیں توقع کرنا ہو گی کہ ایل پی جی سلینڈر بلیک میں 2500 روپیہ کا ملے گا ۔
ہمیں امید کرنا ہو گی کہ چیف جسٹس ضیا الدین ہسپتال کے ساتھ فوجی فرٹیلائزر ،فاطمہ فرٹیلائزر اور اینگرو کی طرف سے یوریا کی قیمت میں اضافہ کا سوموٹو لیں گے ۔ طاقتور لوگوں کی کمپنیوں کو حاصل ہونے والے منافع کے حوالہ سے بھی کوئی کارنامہ سرانجام دیں گے ۔ یہ ایک آدمی کے سب جیل قرار دئے گئے کمرہ سے شراب کی بوتل برامد ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کی زراعت سے منسلک 70 فیصد آبادی کا معاملہ ہے ۔کاشتکار چیختے پھر رہے ہیں تبدیلی آئی ہے یا قیامت خریف کی فصل سے پہلے ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ہمیں امید کرنا ہو گی جس طرح ایک ڈی پی او کے معاملہ پر انصاف فوری حرکت میں آیا ہے پاکستان کے تین کروڑ سے زیادہ لوگ جو روٹی اور سالن پکانے کیلئے ایل پی جی سلینڈر استمال کرتے ہیں ان پر گرائے جانے والے بم پر بھی کوئی نوٹس ہو گا ۔
ایل پی جی کے شعبہ میں بہت اچھے محب وطن لوگ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ہمارے پاس پبلک اکاونٹس کمیٹی کے ایک اجلاس کے نوٹس ہیں لیکن ان نوٹس کا کیا ہے دو منٹ لگائیں گوگل پر جن لوگوں کو ایل پی جی کا کوٹہ دیا گیا تھا سب کے نام سامنے آجائیں گے ۔واک گیس کو او جی ڈی سی کی ایل پی جی کی پیدوار کا 50 فیصد ملتا تھا اور اس کمپنی کے چیف ایڈویزر عمران خان فیم جنرل شجاع پاشا تھے اور ریٹائرمنٹ کے فوری بعد انہیں یہ عہدہ جلیلہ دیا گیا تھا ،ان صاحب نے ایک مرتبہ چیدہ صحافیوں سے ایک چنیدہ بریفنگ میں استفسار کیا تھا ہماری قسمت میں بلاول بھٹو ،مونس الہی اور مریم نواز کیوں ہیں ۔
جو لوگ ایل پی جی کوٹہ سے مستفید ہوئے ان میں نیب کے ایک سابق چیرمین جنرل منیر حفیظ بھی تھے ،ایک صاحب پنجاب کے سابق گورنر تھے نام تھا ان کا جنرل خالد مقبول ۔ ایک صاحب صدارتی الیکشن لڑ رہے ہیں ان کا نام اعتزاز احسن ہے ۔ایک جنرل معین الدین حیدر ہیں ۔ایک جنرل طارق مجید ہیں ایک جنرل رحمت خان ہیں یاد رہے یہ سب ریٹائر ہو چکے ہیں ۔ ایک سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت ہیں یہ تمام وہ صاحبان ہیں جنہیں ایل پی جی کا کوٹہ ملا تھا ۔مدینہ کی مثالی ریاست کے قیام کیلئے ہمیں پوری امید ہے کوئی سوموٹو ہو گا اس بات کا پتہ لگانے کیلئے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ سے کن لوگوں کے خزانوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔
ایک ڈرامہ ایل این جی کا چل رہا ہے ۔ ۔تبدیلی پوری طاقت سے آ رہی ہے ۔ اللہ اس ملک پر رحم کرے ۔ماضی قریب کی بات ہے پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق بنتا تھا سی این جی اسٹیشن پر گاڑیوں کی طویل قطاروں پر ۔ بین القوامی اخبارات میں اس طرز کے کارٹون شائع ہوتے تھے مریخ سے جو نظر آتا ہے وہ پاکستان میں سی این جی اسٹیشن پر گاڑیوں کی طویل قطاریں ہیں ۔ملک کے مختلف شہروں میں موسم سرما میں سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مظاہرے ہوتے تھے ۔شدید موسم گرما میں 20 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ سے عوام بلبلاتے تھے مظاہرے کرتے تھے ۔حکومت وقت کو بددعائیں دیتے تھے۔
قطر سے ایل این جی کی درامد کے معاہدے کئے گئے ۔پنجاب کے 200 سو سی این جی اسٹیشن کو گیس کی فراہمی شروع ہو گئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں بھی ختم ۔فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس ایل این جی پر چلنے لگے ۔تین پاور پلانٹس تو خالص ایل این جی پر چلنے والے تھے ۔فرنس آئل اور ڈیزل سے بننے والی بجلی ایل این جی سے 40 فیصد کم قیمت پر بننے لگی ۔ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو گیا ۔
اب ڈرامہ شروع ہو چکا ہے ۔کرپش کے خاتمہ اور تبدیلی کا نام لے کر ایل این جی معاہدوں پر نظر ثانی کی بریفنگ چیدہ صحافیوں کو بلوا کر دی گئی ہے ۔ ۔پاکستان میں ایک مافیا نے توانائی کے بحران کے دور میں جنم لیا تھا یہ مافیا نجی پاور کمپنیز کا تھا انہیں آئی پی پیز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آئی پی پیز فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی بناتی تھیں ۔فرنس ائل اور ڈیزل کی درامد میں بھی بھاری منافع ہوتا تھا اور بجلی کی فروخت میں بھی اور پھر 17 فیصد ریٹ اف ریٹرن کی ریاستی ضمانت سونے پر سہاگہ تھی ۔ ایل این جی درامد سے یہ مافیا بے پناہ منافع سے محروم ہوا تو ایل این جی کے منافع سے مستفید ہونے والے نئے مافیا کا دشمن بن گیا ۔اب اگر ایل این جی معاہدے منسوخ ہوئے تو گھڑی الٹی گھوم جائے گی ۔ فرنس آئل اور ڈیزل سے مہنگی بجلی بننے لگے گی ۔روپیہ کی قیمت جس رفتار سے کم ہو رہی ہے لوگ سی پیک کے صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے پراپرٹی اور دوسرے غیر پیدواری شعبوں کی طرف بھاگ جائیں گے۔پاکستانی برآمدات پیداواری لاگت میں اضافہ کی وجہ سے رہی سہی مارکیٹں بھی کھو دیں گی ۔بجلی کی قیمت میں جو دو روپیہ یونٹ اضافہ کیا گیا ہے اس سے کون فائدہ اٹھائے گا ۔نجی پاور کمپنیز کن لوگوں کی ہیں ۔جن لوگوں نے روپیہ کی قدر میں کمی کا فیصلہ کیا ان سے کون پوچھے گا درامدات میں اضافہ کیوں نہیں ہوا اور صرف ایک ماہ میں بیرونی اخراجات میں 240 ارب روپیہ سے زیادہ کا خسارہ کیوں ہو گیا ہے ۔
اس ملک پر رحم کریں کاریں فروخت کرنے کھانے پینے کی پچت سے دھوکہ نہ دیں معاشی بحالی کا پروگرام دیں ۔ جو مافیا نئی فصل سے پہلے کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ کر کے تجوریاں بھر رہا ہے اس پر توجہ دیں ۔جو مافیا موسم سرما کی آمد سے پہلے ہی ایل پی جی کی قیمتوں کو آگ لگا رہا ہے ان چوروں پر ہاتھ ڈالیں ،ایسا لگتا ہے کچھ طاقتور مافیا والے تبدیلی کے شدت سے منتظر تھے انہوں نے تو دو ہفتے بھی گزرنے کا انتظار نہیں کیا ۔
ملک میں معاشی ترقی جعل سازی سے نہیں آئے گی سیاسی بے یقینی کے خاتمہ اور قومی یکجہتی سے آئے گی ۔معاشی پالیسیوں کے تسلسل سے ائے گی۔جو معاشی مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے یہ ماضی میں تین مرتبہ بن چکی ہے ۔شاہد جاوید برکی نے بنائی ،شوکت عزیز نے بنائی اور ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بنائی ۔معیشت کے تمام شعبوں کے بحالی کیلئے سابقہ کمیٹیوں کی سفارشات پہلے سے موجود ہیں ثاقب شیرانی اور ڈاکٹر اشفاق تو اسحاق ڈار اور شوکت عزیز کی کمیٹیوں میں بھی رہ چکے ہیں ۔قوم کے ساتھ کیوں ڈرامے کر رہے ہیں ،رواں مالی سال کا آغاز مایوس کن ہے ۔ جولائی میں ٹیکس وصولی کی شرح 18 فیصد کی بجائے 14 فیصد ہے اور اگست میں بھی ہدف پورا نہیں ہوا ۔جن لوگوں نے نئے حکمران مسلط کئے ہیں وہ معاشی بحالی میں بھی مدد کریں ۔وہ ایل این جی معاہدوں کی منسوخی کی صورت میں معیشت کو ہونے والے نقصانات کا تجزیہ بھی کرائیں ۔وہ ایل پی جی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ سے عام پاکستانیوں کو ہونے والے نقصانات پر بھی توجہ دیں ۔ وہ چاہیں تو سب کچھ کر سکتے ہیں اور عام انتخابات میں وہ اپنی طاقت ثابت بھی کر چکے ہیں اس ملک پر ایک اور رحم کریں ناتجربہ کار تبدیلی والی حکومت کے معاشی فیصلوں پر آہنی گرفت رکھیں اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہوں ۔

متعلقہ مضامین