سوشل میڈیا سے سرکاری اپیل

خالدہ شاہین رانا

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں ایم مزاری نے خاتون کے نابالغ گھریلو ملازمہ کو فالتو چائے بنانے پر بہیمانہ تشدد کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فیس بک صارفین اور عوام الناس سے سوشل میڈیا پر چلنے والے واقعہ میں اس خاتون کی شناخت میں مدد دینے کی اپیل کی ہے، ڈاکٹر شیریں ایم مزاری نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ انہیں اس خاتون کی شناخت اور جائے وقوعہ(شہر اور محلہ ) کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تاکہ بچی پر تشدد کرنے والی خاتون کے خلاف فوجداری کارروائی کی جاسکے ،انہوں نے پولیس اور ایف آئی اے حکام سمیت متعلقہ اداروں کوبھی مطلوبہ معلومات اکٹھی کرنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ مظلوم بچی کی داد رسی کی جاسکے،یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک فربہ خاتون دس بارہ سالہ گھریلو ملازمہ بچی کو فالتو چائے بنانے پر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر تھپڑوں کی برسات کررہی اور پاگلوں کی طرح چلارہی ہے، تاہم تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ واقعہ کسی شہر کا ہے ۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کے ایک سابق ایڈیشنل سیشن جج ،راجہ خرم علی کی اہلیہ ماہین بی بی نے بھی طیبہ نامی ایک نو سالہ گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے آگ سے جلایا تھا ، اور بات کھلنے پر اس کے خاوند ایڈیشنل سیشن جج ،راجہ خرم علی نے اس واقع کا رخ موڑنے کی کوشش کی تھی ،تاہم فاضل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس پر ازخود نوٹس لیا تھا ،جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج ،راجہ خرم علی اور اس کی اہلیہ ماہین بی بی کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،اورراجہ خرم علی کو نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے بلکہ وہ اس وقت بھی اس فوجداری مقدمہ کا سامنا کررہا ہے ، جبکہ معصوم طیبہ کو پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے زمرد خان سپریم کورٹ کی اجازت سے بیٹی بنا کراپنے ایک رفاہی ادارے میں لے گئے تھے ،جہاں وہ اس وقت بھی زیر تعلیم ہے ۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کی مداخلت پر سابق حکومت نے گھریلو ملازمین کے حقوق کے تعین کے لئے ایک مجوزہ مسودہ قانون بھی تشکیل دیا تھا جوکہ تاحال پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہوا ہے ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام الناس نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، ڈاکٹر شیریں ایم مزاری اور وزیر اعظم عمران خان سے کم عمر بچوں سے گھریلو خدمات لینے پر پابندی عائد کرنے اور گھریلو ملازمین کے لئے فوری طور پر مجوزہ قانون سازی کرکے ضابطہ ہائے کار تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے