ڈیم فنڈ میں وکیلوں کے پیسے

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر پاکستان کے جھنڈے بنے ہوئے ہیں، وہاں کے لوگ ہم سے زیادہ پاکستان سے پیار کرتے ہیں ۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے پوچھا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں کیا ترمیم کی جا سکتی ہے مشاورت کر کے آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں ۔

سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان ارڈر 2018 کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی. سماعت شروع ہوئی تو وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت میں گلگت بلتستان ارڈر 2009 کو چیلنج کیا گیا تھا. حکومت نے 2009 آرڈر ختم کر کے آرڈر 2018 جاری کیا تھا، جس پر گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ نے آرڈر 2018 معطل کر دیا تھا. جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان ارڈر معطل کر دیا ہے اور آرڈر 2018 دوبارہ بحال کیا ہے. چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں کیا ترمیم کی جائے اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں، پارلیمنٹ سے قانون سازی کرانی ہے یا کابینہ سے مشاورت کر کے آگاہ کیا جائے۔ چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن صاحب آپ ہماری رہنمائی فرمائیں یہ ایک اہم مسئلہ ہے، ایک نجی ٹی وی پر مجھ سے پوچھا گیا کہ ڈیم فنڈ میں وکیلوں کا کیا حصہ ہے میں بتانا بھول گیا تھا کہ اعتزاز احسن نے ڈیم فنڈ میں 20 لاکھ روپے جمع کرائے تھے جبکہ نعیم بخاری نے بھی 40 لاکھ روپے ڈیم فنڈ میں جمع کرائے ہیں، وکلا برادری بھی ڈیم فنڈ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ میرے پیسوں کے بارے کسی کو بتانے کی کیا ضرورت ہے تو چیف جسٹس نے کہا آپ عام آدمی نہیں اعتزاز صاحب آپ ایک دانشور ہیں، آپ بار کے صدر اور پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں، آپ ہمارے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ میرے پاس آپ کی باتوں کا جواب دینے کیلئے الفاظ نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے بے حد پیار کرتے ہیں، گلگت بلتستان کے دشوار گزار راستوں اور پہاڑوں پر پاکستان کے جھنڈے بنے ہوئے ہیں، گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق دینا ہماری ذمہ داری ہے، عدالتی معاون خواجہ حارث صاحب بھی آج اس کیس میں پیش نہیں ہوئے ۔ عدالت نے تمام فریقین سے آئندہ سماعت پر گلگت بلتستان آرڈر 2018 کیلئے تجاویز مانگتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین