دانشوروں کا کہرام

اظہر سید

عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے ہٹائے جانے کو لے کر سوشل میڈیا پر متفکرین کا کہرام جاری ہے ۔یار لوگ دور دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں ۔طنزیہ پیرا گراف لکھے جا رہے ہیں ۔مفکرین کے رونے پیٹنے سے لگتا ہے گویا پاکستان دنیا کی سپر پاور بننے جا رہا تھا جو اب ممکن نہیں رہا۔
عاطف میاں نے آنے سے پہلے پاکستان کی معاشی ترقی کا جو نقشہ پیش کیا تھا اس کو ہم نے غور سے پڑھا ہے ۔دنیا کے بقول شخصے 25 بہترین نوجوان معاشی ماہرین میں شامل عاطف میاں کا معاشی منصوبہ ہمیں معاشی منصوبہ کم اور سی پیک کا نوحہ زیادہ لگا ہے۔وہ تو حکومت نے مولویوں کے خوف سے نامزدگی خود واپس لے لی لیکن جو کچھ ہم نے پڑھا ہے اس پر عملدرآمد سی پیک کا خاتمہ تھا ۔حیرت انگیز بات یہ ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عاطف میاں سے بالکل مختلف موقف اپنایا ہے۔چینی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا "سی پیک کی تکمیل پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے ۔تین روز قبل سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب میں ایک تقریب میں کہا تھا "سی پیک کی وجہ سے پاکستان دنیا کی بڑی معاشی طاقت بنے گا” اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر جو عاطف میاں نامی گرامی ماہر معیشت نے سی پیک کے متعلق فر مایا تھا وہ کیا تھا اور عاطف میاں کے ساتھ اظہار یکجہتی میں کمیٹی کے دو اراکین نے کام کرنے سے معذرت کر لی ہے ۔دو باتیں ممکن ہیں یا وزیر خارجہ پروٹوکول تقاضوں اور چینیوں کی 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے احترام میں سی پیک کی تیز تر تکمیل کے حوالہ سے جھوٹ بول رہے تھے یا پھر معاشی بحالی کیلئے عاطف میاں کا روڈ میپ فراڈ تھا۔عمران خان کی طرف سے چینی صدر کی آمد سے پہلے جو دھرنہ دیا گیا تھا جس کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ اور سی پیک پر دستخط میں چھ ماہ کی تاخیر ہوئی اس سے دھرنہ کرانے والوں کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
عاطف میاں کے جو خیالات ہم نے پڑھے ہیں وہ معاشی ماہر کی بجائے ایسے بھارتی دانشور محسوس ہوئے جو سی پیک کو پاکستان کی محبت میں دوسری ایسٹ انڈیا کمپنی قرار دیتے ہیں ۔عاطف میاں کا موقف ہے 2013 میں پاکستان کے قرضے 62 ارب ڈالر تھے جو اب 90 ارب ڈالر ہیں اور قرضوں میں یہ اضافہ سی پیک کی وجہ سے ہوا ہے اور پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ان کا دوسرا نکتہ یہ تھا قرضوں کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو گیا اور افراط زر بڑھ گئی ۔عاطف میاں کے دونوں اعتراضات بے معنی ہیں ۔ہماری دلیل یہ ہے قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا لیکن جی ڈی پی یعنی معیشت کا حجم بھی بڑھا 28 ارب ڈالر اگر پانچ سال میں بڑھے تو تین ارب ڈالر ہر سال ویسے بھی بیرونی اخراجات کے خسارہ میں اضافہ کی وجہ سے بڑھنا تھے سی پیک ہوتا یا نہ ہوتا پاکستان کو ہر سال ادائیگیوں کے توازن کیلئے اضافی قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے اس سال بھی ہو گا اور اگلے سال بھی ، قرضوں کے حجم میں اضافہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک پاکستان کی برآمدات درآمدات سے نہیں بڑھ جاتیں ۔جب تک براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہوتا جب تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں ہر سال کم از کم 20 فیصد اضافہ نہیں ہوتا ۔ یہی حال مقامی اخراجات میں خسارے کا ہے بجٹ خسارہ اس وقت تک کم نہیں ہو سکتا اور اندورنی قرضے اس وقت تک بڑھنے سے نہیں روکے جا سکتے جب تک ٹیکسوں کی وصولی کی شرح جی ڈی پی یعنی معیشت کے کم از کم 25 فیصد نہیں ہوتی دفاعی اخراجات کم نہیں کئے جاتے اور غیر پیداواری اخراجات پر روک نہیں لگائی جاتی۔
عاطف میاں نے بیرونی قرضوں کے حوالہ سے غلط بیانی کی ہے حقیقت میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں13 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے 15 ارب تو ہر حال میں بڑھنا ہی تھے۔سی پیک کے منصوبوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ پاکستان 30 سال کے بعد پہلی مرتبہ توانائی کے شعبہ میں خود کفیل ہو گیا ہے ۔12 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیدوار میں اضافہ کوئی دیوانے کا خواب تھا جو تعبیر پا گیا ہے۔شوکت عزیز نامی معاشی جادو گر بھی آیا تھا وزیر خزانہ بھی رہا اور وزیر اعظم بھی ۔افغانستان میں امریکی آپریشن کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے پر پاکستان پر ہن بھی برسا تھا قرضے بھی ری شیڈول ہوئے تھے لیکن توانائی کے شعبہ میں خود کفالت حاصل نہیں ہوئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت میں ڈیزل اور فرنس آئل سے 24 روپیہ یونٹ بجلی بنتی رہی گردشی قرضہ کا شیطانی چکر شروع ہوا لیکن توانائی کے شعبہ میں خود کفالت نہیں ملی ۔
اب اگر سی پیک کے قرضوں سے توانائی کے شعبہ میں خود کفالت مل گئی ہے تو اس کی تحسین ہونا چاہے نہ کہ عاطف میاں کی طرف سے تنقید ۔
سی پیک کے مواصلات کے شعبہ کے منصوبوں سے تمام بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں اضافہ ہو گیا تھا سیمنٹ اسٹیل تعمیرات سے منسلک 33 شعبے سب میں ترقی ہوئی تھی اور معاشی شرح نمو 10 سال میں پہلی مرتبہ پانچ فیصد سے تجاوز کر گئی ۔ہمیں افسوس ہے اور علمی بددیانتی پر تاسف بھی عاطف میاں نے ان پہلوں کو نظر انداز کر دیا اور سارا ملبہ سی پیک پر ڈال دیا۔
جہاں تک افراط زر کا تعلق ہے اسحاق ڈار کی موجودگی میں مہنگائی کی شرح سب سے کم رہی ۔جب اسحاق ڈار کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی افراط زر کی شرح تین فیصد تھی ۔عاطف میاں جب کہتے ہیں قرضے پانچ سال میں 62 ارب سے بڑھ کر 90 ارب ڈالر ہو گئے ہیں افسوس ہوتا ہے وہ اس میں گزشتہ پانچ چھ ماہ کے دوران روپیہ کی قدر میں 20 فیصد کمی کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے بیرونی قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا۔ایک طرف عاطف میاں اپنے معاشی پروگرام میں الزام عائد کرتے ہیں سی پیک کی وجہ سے روپیہ کی قدر مصنوعی طور پر کم نہیں ہونے دی گئی دوسری طرف وہ روپیہ کی قدر میں کمی سے بڑھنے والے بیرونی قرضوں میں اضافہ پر تنقید کرتے ہیں ۔”کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”
معاشی جادو گر کہتا ہے ہے گوادر میں اراضی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ ہوا اور یہ سی پیک کی وجہ سے ہے۔کاش وہ پاکستان میں ہوتے ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاون میں کچھ پلاٹ خرید لئے ہوتے انہیں پتہ چلتا گوادر میں پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کی کل سرمایہ کاری کا صرف ایک فیصد حصہ ہو گا باقی ساری سرمایہ کاری تو طاقتور لوگوں اور اداروں کی ہاوسنگ اسکیموں میں ہوئی تھی۔
سی پیک پر عاطف میاں کی ایک تنقید کہ معاہدے کی شرائط خفیہ رکھی گئی تھیں اپنی جگہ خود مضحکہ خیز ہیں جس وقت عاطف میاں کا مضمون شائع ہوا تھا اس وقت تک وہ کمیٹی میں شامل تھے ۔جو حکومت موجود ہی نہیں تو شرائط خفیہ رکھنے کا الزام بے معنی ہے نئی حکومت آگئی ہے آپ خود حکومت میں شامل تھے کونسی شرط خفیہ رہ سکتی تھی۔ہمارا موقف ہے پناما ڈرامہ اصل میں سی پیک ڈرامہ تھا ۔عاطف میاں کے خیالات اصل میں وہ بلی تھے جو وقت سے پہلے تھیلے سے باہر آگئی تھی اور وزیر خارجہ کی چینی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سی پیک کے متعلق عزم کا اظہار محض ڈھلوسکہ تھا۔

متعلقہ مضامین