نیب تفتیش کرے تذلیل نہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ایل این جی معاہدے کی انکوائری جلد مکمل کر کے تفصیلی رپورٹ سر بمہر لفافے میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت نے تحقیقات کیلئے دائر درخواست نمٹا دی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ نیب کو اپنا گھر سدھارنا ہوگا، تفتیش کرتے ہوئے تذلیل کی اجازت نہیں دے سکتے ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے ایل این جی معاہدے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی ۔ درخواست گزار نے کہا کہ نئے ایم ڈی پی ایس او کا نام ای سی ایل میں ہے، نئے ایم ڈی پر چھ سو ارب کی کرپشن کا چارج ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت کو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ معاملے میں انکوائری حتمی مرحلے میں ہے اور بظاہر کچھ بے قاعدگی نظر آ رہی ہے، معاہدے کی کچھ شقوں کو سامنے نہیں لایا جا سکتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب تفتیش ضرور کرے مگر لوگوں کو تھپڑ نہ مارے، نیب کے تفتیشی افسران کے رویے کے خلاف شکایات آ رہی ہیں، نیب کو اپنا گھر سدھارنا ہو گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کا تشخیص برقرار رکھنے کے لیے تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دے سکتے، نیب لوگوں کی تذلیل کرتا ہے، پراسیکوٹر صاحب لوگوں کی تذلیل بند کروائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گھنٹوں لوگوں کو بلا کر بیٹھایا جاتا ہے، نیب  رویے پر کل ایک وکیل کا بیٹا میرے پاوں پڑ گیا ۔ عدالت نے نیب کو ایل این جی سیکنڈل کی انکوائری جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ انکوائری رپورٹ کے ہمراہ ایل این جی معاہدے کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے