انصاف ڈیم فنڈ سے مشروط نہیں

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے چک شہزاد ایگرو فارم ہاؤسز مالکان کی نظر ثانی اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا ہے ۔ عدالت نے خلاف قانون تعمیرات پر سات ہزار روپے فی مربع فٹ جرمانہ عائد کر دیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ایسا نہ سمجھا جائے کے ڈیم کے لیے غیر قانونی کام کررہے ہیں، انصاف ڈیم فنڈ میں پیسے دینے سے مشروط نہیں ہے ۔

تین رکنی عدالتی بنچ نے فارم ہاؤس کیلئے دی گئی زمین پر تعمیرات کے مقدمے میں حکم دیا ہے کہ سی ڈی اے بورڈ میٹنگ میں ایگرو فارم ہاؤسز میں تعمیرات کی حد ساڑھے نو ہزار مربع فٹ مقرر کی گئی، 9500 سے لیکر 12500مربع فٹ تک تعمیرات کرنے والوں پر 7 ہزار فی مربع فٹ جرمانہ عائد کیا جائے، ساڑھے نو ہزار مربع فٹ سے زائد تعمیرات والے فام ہاؤسز سے سات ہزار فی مربع فٹ کے حساب سے جرمانہ وصول کیا جائے، پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ سی ڈی اے نے اگر پہلے کوئی جرمانہ عائد کیا ہے تو اسے ایڈجسٹ کیا جائے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ایگرو فارم ہاؤسز مالکان 3 ماہ میں جرمانے کی رقوم ادا کریں، سی ڈی اے ایک ماہ میں تمام ایگرو فارم ہاؤسز کا معائنہ کرے، ہر فارم ہاؤس کی مکمل انسپکشن کرکے زائد تعمیرات پر سی ڈی اے چیئرمین بیان حلفی دے ۔

عدالت نے کہا ہے کہ سات ہزار روپے فی مربع فٹ جرمانے کی حد 12500 مربع فٹ تعمیرات تک ہے، اس سے زیادہ رقبے پر کی گئی تعمیرات منہدم کی جائیں جبکہ فارم ہاؤس کے تہہ خانے کی تعمیر پر کوئی جرمانہ عائد نہ کیا جائے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ مستقبل میں کسی فارم ہاؤس کو 9500 مربع فٹ سے زائد تعمیرات کی اجازت نہ دی جائے، سی ڈی اے مستقبل میں ساڑھے نو ہزار سے زائد تعمیرات کا کوئی پلان تشکیل نہ دے، ایگرو فارم ہاؤسز کے جرمانوں سے حاصل ہونے والی رقم سی ڈی اے الگ اکاؤنٹ میں رکھے، سی ڈی اے ایگرو فارم ہاؤسز کے جرمانے سے حاصل رقم خرچ نہیں کرسکتا، ایگرو فارم ہاؤسز کے جرمانوں سے رقم اکٹھی ہونے کے بعد فوری عدالت کو بتایا جائے ۔

اس سے قبل چیف جسٹس نے فارم ہاؤس مالکان کے وکلا سے کہا تھا کہ جرمانے کی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرائی جائے گی تاہم حکم نامے لکھوانے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء اکثر ڈیم فنڈز میں حصہ ڈالنے کی بات کرتے ہیں اس وجہ سے ہم یہ بات کرتے ہیں،  ایسا نہ سمجھا جائے کے ڈیم کے لیے غیر قانونی کام کررہے ہیں، انصاف ڈیم فنڈ میں پیسے دینے سے مشروط نہیں ہے، مقدمات کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں ۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فارم ہاؤس کے ایک مالک کا نام لے لیا تو عدالت میں قہقہہ لگے گا ۔ انہوں نے وکیل اعتزاز احسن کو مخاطب کر کے کہا کہ ایسا نہ ہو نمازیں بخشوانے آئے ہیں روزے پر گلے پڑ جائیں ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ کے دربار میں یہ ہو سکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ دربار نہیں عدالت ہے اور ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے ۔

جاری ہے

متعلقہ مضامین