ڈیم فنڈ: ججوں میں اختلاف رائے

عدالتی جرمانے کی رقم سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ میں جمع کرانے کے فیصلے پر دو جج صاحبان کے درمیان اختلاف رائے دیکھنے میں آیا ہے ۔ عدالت عظمی میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران حاضرین نے یہ بات محسوس کی ہے ۔

سپریم کورٹ کے تین ججوں جسٹس گلزار احمد، جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بنچ مختلف مقدمات کی سماعت کر رہا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اس دوران نورالنسا و دیگر بنام یونائیٹڈ بنک و دیگر کا مقدمہ سماعت کیلئے لگا ۔ ایک فریق کے وکیل سردار اسلم نے عدالت سے سماعت مؤخر کرنے کی استدعا کی ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اس سے قبل بھی سماعت اسی فریق کی درخواست پر مؤخر کی گئی تھی ۔ کیس میں ایک اور فریق کے وکیل مخدوم علی خان نے بھی سماعت ملتوی اور مؤخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کی ۔ بنچ نے سماعت مؤخر کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے وکیل سردار اسلم سے کہا کہ اپنے مؤکل سے کہیں کہ ہم پچاس ہزار جرمانہ بھی عائد کر رہے ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جرمانے کی یہ رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرا دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی نے ان سے اختلاف کیا اور کہا کہ ڈیم فنڈ نہیں، پچاس ہزار جرمانے کی رقم ایدھی فاؤنڈیشن کو دی جائے ۔ بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے حکم نامے میں ترمیم کرتے ہوئے کیس ملتوی کرانے والے فریق کو پچاس ہزار ایدھی فاؤنڈیشن کو بطور جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت کی ۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سترہ ججوں میں سے اب تک ڈیم فںڈ میں حصہ ڈالنے والے جج صاحبان کی اصل تعداد اور نام سامنے نہیں آ سکے ۔

متعلقہ مضامین