باپ کا نام ہٹانے کا کیس

شناختی کارڈ سے والد کا نام ہٹانے کیلئے دائر کی گئی درخواست پر سپریم کورٹ نے لڑکی کے والد کو جواب دینے کیلئے دس دن کی مہلت دے دی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے تطہیر فاطمہ کی درخواست کی سماعت کی ۔ عدالتی حکم پر لڑکی کے والد اور نادرا کے ڈائریکٹر پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے تطہیر فاطمہ کے والد کو مخاطب کر کے کہا کہ اتنے سال آپ نے اپنی بیٹی سے رابطہ کیوں نہیں رابطہ کیا؟ یہ بچی اپنے نام سے آپ کا نام ہٹانا چاہتی ہے، بچی کہہ رہی ہے کہ میرا نام تطحیر فاطمہ بنت پاکستان کر دیں ۔ درخواست گزار لڑٖکی کے والد نے جواب دیا کہ یہ میری بیٹی ہے میں نے اسے ملنے کے لئے بہت کوششیں کیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کوششیش کیں، ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ لڑکی نے کہا کہ میں جب میٹرک کر رہی تھی اس وقت کچھ دستاویزات کی ضرورت پڑی، مجھے میرے باپ نے کہا کہ دستاویزات تب دوں گا جب قریبی تھانے میں لکھ کر دو کہ تمہاری ماں بد کردار عورت ہے ۔ چیف جسٹس نے لڑکی کے والد سے کہا کہ  آپ نے اس بچی کے کئی سال ضائع کر دئیے، آپ کو اس کا مداوا کرنا پڑے گا، تمام گزرے سالوں کا خرچ آپ سے لیا جائے گا، چاہے چوری کرو, ڈاکہ ڈالو ۔ لڑکی کے والد نے جواب دیا کہ جناب میں غریب آدمی ہوں اور یہ رقم کا معاملہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غریب ہو تو جیل چلے جاؤ, سول مقدمات کا سامنا کرو ۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی کو پوچھ گچھ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی کے والد کے مالی حالات کے بارے ایف آئی اے تحقیقات کر کے عدالت کو آگاہ کرے ۔ سماعت دس دن کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے