کھٹارہ ہیلی کاپٹرز برائے فروخت

حکومت نے سادگی اور کفایت شعاری مہم کے سلسلے میں جن چار ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں سے ایک بھی اڑان بھرنے کے قابل نہیں ہے ۔ بی بی سی کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر ماضی میں وفاقی حکومتوں کو امریکہ نے ریلیف اور ریسکیو کے لیے تحفتاً دیے تھے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے وفاقی حکومت کے زیر استعمال چار ہیلی کاپٹرز اور آٹھ بھینسوں کو نیلام کرنے کے اعلان والی ٹویٹ کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے کابینہ ڈویژن کو ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں چار ہیلی کاپٹرز کو نیلام کرنے کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس مراسلے کے بعد کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کے دفتر کو ان ہیلی کاپٹرز کی  حالت سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان چاروں میں سے ایک بھی ہیلی کاپٹر اس حالت میں نہیں ہے کہ اسے فوری طور پر فروخت کیا جا سکے کیونکہ ان سب کو اڑنے کے قابل بنانے کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کرنی پڑے گی ۔

بیل ہیلی کاپٹر کمپنی کے بنائے ہوئے دو UH-1H ہیلی کاپٹر ماڈل 1971-74 اور دو 1993-1992 میں پاکستان آئے تھے ۔ کابینہ ڈویژن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 1993-92 ماڈل کے ہیلی کاپٹرز کو تو چند پرزے ڈال کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے لیکن اس پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہوں گے ۔ جبکہ 1974-71 ماڈل کے ہیلی کاپٹرز کو اڑنے کے قابل بنانا مزید مہنگا اور مشکل کام ہو گا ۔ جبکہ 1974-71 ماڈل کے ہیلی کاپٹرز کو اڑنے کے قابل بنانا مزید مہنگا اور مشکل کام ہو گا۔

بی بی سی کے مطابق چاروں پرانے ہیلی کاپٹر غیر استعمال شدہ حالت میں کئی سال سے ہیلی پورٹس پر کھڑے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ان ہیلی کاپٹرز کو فروخت کرنے میں ایک اور مسئلہ جو درپیش ہے وہ یہ کہ یہ تمام ہیلی کاپٹرز گو کہ ریلیف کے کام کے لیے آئے تھے لیکن یہ وہ ماڈلز ہیں جن پر جدید اسلحہ بھی نصب کیا جا سکتا ہے اس لیے انہیں کسی مقامی خریدار کو فروخت نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن ان ہیلی کاپٹرز کی جو حالت ہے اور جتنے پرانے یہ ماڈلز ہیں، ان کا عالمی منڈی میں خریدار ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے