"ٹوائلٹ۔۔۔۔ ایک pain کتھا”

ویسے مجھے بند جگہوں کا خوف (claustrophobia) بالکل نہیں ہے، بلکہ الحمدللہ فوبیا کوئی بھی نہیں لیکن کل پرسوں اکشے کمار کی "ٹوائلٹ ایک پریم کتھا” دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ زندگی میں جن چند جگہوں پر اپنا دم گھٹتا محسوس کیا ہے، تقریبآ وہ سب کی سب بیت الخلاء ہی تھیں۔

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو انتہائی مجبوری ہی میں گھر سے باہر ٹوائلٹ کا استعمال کرتے ہیں مگر جب زندگی زیادہ گزری ہی گھر سے باہر ہو تو انتہائی مجبوری بھی پیش آتی ہی رہتی ہے- کچھ ایسے غلیظ ترین، تاریک اور گھٹن زدہ ٹوائلٹس بھی استعمال کر رکھے ہیں کہ باہر نکل کر جی چاہا کہ اس بیت الخلاء کے مالک کو اٹھا کر خلا میں پھینک دیا جائے۔ مگر اللہ ہم سب کو معاف کرے، چوٹی کے غلیظ ترین ٹوائلٹس مساجد میں دیکھے ہیں۔ ایک جاننے والے فرمایا کرتے تھے کہ گھر والوں کے ظاہر کا ڈرائنگ روم اور لاونج سے پتہ چلتا ہے اور باطن کا کچن اور ٹوائلٹ سے۔ اگر سچ میں ایسا ہی ہے تو ہماری مساجد کے ٹوائلٹس ہمارے باطن کی بالکل صحیح عکاسی کرتے ہیں۔

مگر نجاست کا یہ سلسلہ صرف مساجد تک محدود نہیں ہے- جیسا کہ اکشے کی فلم میں دکھایا گیا، چند دہائیاں قبل تک ہمارے معاشرے میں بھی حوائج ضروریہ فصلوں کو قدرتی کھاد کی فراہمی کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ اب خواہی نا خواہی ہم نے گھروں میں ٹوائلٹس بنا تو لئے ہیں مگر ہماری بھرپور کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنے لاکھوں کروڑوں کے پلاٹ کا کم سے کم حصہ اس گندے کام کیلئے استعمال کیا جائے۔ ہمارے ٹھیکیداروں اور آرکیٹیکٹس کا پسندیدہ سائز 6×8 ہے جسے صاحب خانہ کی فرمائش پر پانچ بائی آٹھ، چھ بائی چھ بھی کیا جا سکتا ہے- ہم ایک ایسے گھر میں بھی رہے جہاں بیت الخلاء سیڑھیوں کے نیچے تھا۔ یوں تو پاکستان میں ٹوائلٹس کا یہ مقبول ترین مقام ہے، ہر دوسرے گھر میں شاید ایسا ہی ہوتا ہے- مگر اس ٹوائلٹ میں سیٹ کے عین اوپر سیڑھیوں کی بناوٹ کچھ اس طرح تھی کہ آپ "تربیت یافتہ” نہ ہوں تو بیٹھتے ہوئے تشریف اور اٹھتے ہوئے سر سیڑھیوں سے ٹکراتا تھا۔ جب تک آپ ٹرینڈ ہوتے تھے، دونوں جگہوں پر گومڑ ابھر آتے تھے۔ وہاں حاجت کشائی کیلئے رکوع میں جانا اور ساتھ ہی گھٹنوں کو بھی قدرے خم دینا پڑتا تھا، واپسی بھی اسی بیہودہ پوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔ فائدہ ایسے ٹوائلٹس کا یہ ہے کہ آپ اندر جانے کی دعا بھول جائیں تو بھی برے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں۔ برے خیالات کو بھی تھوڑی سپیس درکار ہوتی ہے، اف یو نو واٹ آئی مین۔

ہمارے دفاتر کا حال اس سے بھی برا ہے- اچھے خاصے پڑھے لکھے سلجھے لوگوں کے دفاتر جا کر حیرت ہوتی ہے کہ ان کی ڈگریوں نے اگر انہیں اپنے کیے پر پانی بہانا نہیں سکھایا تو ان سے اور کس بات کی توقع رکھی جائے۔ پبلک ٹوائلٹس کے بیان کو تو خیر پوری کتاب درکار ہوگی، جس میں وہاں پڑھے جانے والے اقوال زریں بھی درج کئے جا سکیں۔

اکشے کمار ہی کی طرح مجھے بھی اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ ترس خواتین پر آتا ہے۔ ہماری لاکھوں بہنیں، بیٹیاں جو دفاتر میں کام کرتی ہیں، نوے فیصد کو مردوں کے ساتھ یہی غلیظ ٹوائلٹ شئیر کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے ادارے بھی دیکھ رکھے جہاں خواتین اگر اکثریت میں نہیں تو مرد سٹاف کے برابر ہی ہوں گی مگر وہاں بھی خواتین کیلئے ٹوائلٹ مخصوص کرنے کا رواج نہیں ہے۔ یہ ہونا تقریباً نہ ہونا ہی ہوتا ہے- سفر کے دوران، تقریبات میں، کام کی جگہوں پر ، خواتین کو ہر جگہ ہی خود پہ جبر کر کے رہنا پڑتا ہے اور یہ بلاشبہ بدقسمتی کی بات ہے-

مقام شکر ہے کہ اب کم ازکم موٹروے پر اور تقریبآ سب اچھی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ٹرمینلز اور ائرپورٹس پر لیڈیز اور جینٹس دونوں کیلئے بہت معقول انتظام کیا جاتا ہے- کارپوریٹ سیکٹر میں بھی صورتحال بہتر ہو رہی ہے- مگر میں تبدیلی اسے مانوں گا جب ہماری مسجدوں کے بیت الخلاء بھی کم سے کم ہمارے گھروں کے ٹوائلٹس جتنے صاف ہوا کریں گے۔

یہ بات یاد رکھیں کہ صفائی ہمیشہ باطنی ہوتی ہے جو آپ کے ظاہر سے جھلکتی ہے- اسی لئے اسے نصف ایمان کہتے ہیں۔ اگر آپ کو اللہ کے گھر میں بھی صفائی کی پروا نہیں تو بہتر ہے تنہا نماز پڑھ لیا کریں تاکہ لوگ آپ کے شر سے محفوظ رہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے