مساج سنٹر سے پکڑا گیا مولوی

کند ہم جنس باہم جنس پرواز ۔۔ کبوتر با کبوتر، باز با باز
چینی مساج سینٹرسے پکڑے جانے والا پاکستان تحریک انصاف کا امیدوار
یہ22 جون2007 کی بات ہے کہ لال مسجدکی طالبات کی تحریک عروج پر تھی اس رات لال مسجدکی طالبات نے ایف ایٹ میں چینی مساج سینٹر پر چھاپہ مارا اورتین چینی خواتین سمیت وہاں دیگر افراد کو اٹھا کر لال مسجد لے آئیں ۔ 23 جون کو میڈیا کی یہ سب سے بڑی خبر تھی ۔ میڈیا کا رخ لال مسجد کی طرف تھا ۔ میں جب لال مسجد پہنچا تو علامہ عبدالرشید غازی شہید ایک عجیب صورتحال سے دوچار تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران جو لوگ پکڑے گئے ہیں ان میں ایک عالم دین کے دو بیٹے بھی شامل ہیں، میری خواہش ہے کہ ان دونوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرنے سے قبل چھوڑ دیاجائے کیوں کہ ان کا تعلق ایک مذہبی سیاسی جماعت سے ہے ۔ بالآخر ان دونوں کو خفیہ راستے سے باہر نکال دیا گیا ۔ اگلے دن چند اخبارات میں چھوٹی سی یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ مساج سینٹر سے ایک عالم دین کا صاحبزادہ بھی پکڑا گیا ۔
بنوں سے پی ٹی آئی نے اپنا امیدوار نامزد کیا تو گیارہ سال پرانا واقعہ یاد آگیا اور میرے سامنے وہ گیارہ سال پرانی تصویر آ گئی کیوں کہ وہ کوئی اور نہیں یہ ہی نسیم علی شاہ تھے ۔
این اے 35بنوں: ایم ایم اے کا غیر عالم نوجوان امیدوار زاہد اکرم درانی بمقابلہ پی ٹی ائی کے عالم دین امیدوار مولانا سید نسیم علی شاہ ہیں ۔
پی ٹی آئی نے این اے 35 بنوں سے مولانا سید نسیم علی شاہ کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا جس کا مقابلہ ایم ایم اے کے زاہد اکرم درانی سے ہوگا، مولانا سید نسیم علی شاہ بنوں کے بڑے دینی مدرسے جامعہ المرکز الاسلامی کے مہتمم ہیں، ان کے والد مولانا سید نصیب علی شاہ مرحوم جے یو آئی کے سرکردہ رہنما تھے جو جے یو آئی کی مرکزی مجلس فقہی کے سربراہ بھی تھے انہوں نے 2002 کے عام انتخابات میں بنوں کی واحد قومی اسمبلی کی نشست سابقہ این اے26 اور موجودہ این اے 35 سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 78 ہزار 886 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار محمد مصطفی خان نے 31ہزار 867 ووٹ لئے ۔ مولاناسید نصیب علی شاہ مرحوم پورے پاکستان میں ایم ایم اے کے کامیاب امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے اورسب سے زیادہ مارجن سے جیتنے والے رکن قومی اسمبلی تھے ۔مولانا سید نصیب علی شاہ مرحوم کے انتقال کے بعدان کے صاحبزادے مولانا سید نسیم علی شاہ ان کے جانشین بن گئے جن کے بنوں میں سابق وزیراعلی محمد اکرم خان درانی سے بعض معاملات میں اختلافات پیدا ہوگئے جو بڑھتے گئے اور بالآخر 2013 کے انتخابات میں مولانا سید نسیم علی شاہ نے آزاد حیثیت سے بنوں کی قومی نشست پر اکرم خان درانی کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور اکرم خان درانی کے 78 ہزار 294 ووٹ کے مقابلے میں 45 ہزار270 ووٹ حاصل کرکے رنر اپ پوزیشن پر رہے ۔ 2013 میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت قائم ہونے کے بعد وزیراعلی پرویز خٹک کے رابطے میں آگئے اور مبینہ طور پر ان کی تحریک اور رابطوں کے نتیجے میں بنوں کے کئی اہم ترین سیاسی قبائلی شخصیات پی ٹی آئی کا حصہ بنتی گئیں ۔
رواں سال 27 جنوری کو مولانا سید نسیم علی شاہ کی دعوت پر وزیراعلی پرویز خٹک باقاعدہ طور پرجامعہ المرکز الاسلامی کی ایک تقریب میں شریک ہوئے تھے ۔ حالیہ انتخابات میں مولانا سید نسیم علی شاہ نے کھل کر ایم ایم اے اور اکرم خان درانی کے خلاف اور عمران خان وپی ٹی آئی کے حق میں مہم چلائی اور پی ٹی آئی کے انتخابی مہم میں شریک رہے،کہاجاتاہے کہ مولاناسید نسیم علی شاہ کی بھابھی خواتین کی مخصوص نشستوں پررکن اسمبلی بنائی گئی ہیں۔واضح رہے کہ بنوں کی واحد قومی نشست پر وزیراعظم عمران خان نے کامیابی حاصل کی جبکہ چار صوبائی نشستوں میں سے ایک اکرم خان درانی،دوپی ٹی آئی اورایک پی پی پی کے حصے میں آئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نشست خالی کرنے کے بعداس نشست پر پی ٹی آئی کی جانب سے متعدد امیدوار سامنے آئے، مسلم لیگ ن سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے سابق ایم این اے ملک ناصر خان کو پارٹی ٹکٹ ملنے کی قوی امید تھی مگر انہیں آج مایوسی ہوئی اورپی ٹی آئی نے مولاناسید نسیم علی شاہ کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا۔ابتدائی طور پر ملک ناصر خان کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ مولانا نسیم علی شاہ نے تو پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت نہیں کی اس لئے مولانا نسیم علی شاہ کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کرنا پارٹی آئین کی کھلی خلاف وزری ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا نسیم علی شاہ کو ٹکٹ وزیر دفاع پرویز خٹک، بنوں سے ارکان صوبائی اسمبلی ملک پختون یارخان، ملک شاہ محمدخان اور وفاقی وزیر مذہبی امور کی سفارش پر جاری کر دیا گیا۔ مولانا سید نسیم علی شاہ کو پی ٹی آئی ٹکٹ جاری ہونے سے این اے 35 بنوں پر صورتحال نہایت دلچسپ ہوگئی ہے، ایک طرف ایم ایم اے کا دنیادار امیدوار زاہد اکرم درانی اوردوسری طرف پی ٹی آئی کے شرعی حلیے میں عالم دین امیدوار مولانا سید نسیم علی شاہ آمنے سامنے ہیں ۔

عمر فاروق/ صحافی

متعلقہ مضامین