نوازشریف کا جرم

اظہر سید

کوئی سیاسی جماعت منظم فوج خفیہ اداروں عدلیہ اور میڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی کوئی لیڈر انہیں چیلنج کر سکتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں بھٹو جیسا پاپولر لیڈر پیدا نہیں ہوا جو طاقت کے مرکز پنجاب اور سندھ کے ساتھ پرانے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی عوامی حمائت رکھتا تھا ۔بھٹو تمام تر عوامی مقبولیت کے باوجود طاقتور فوج سنسر زدہ میڈیا اور پالتو عدلیہ کے ہاتھوں مارا گیا اور کچھ بھی نہیں ہوا۔
نواز شریف بھٹو کے بعد دوسرا لیڈر ہے جس نے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا ہے اور اس کی قیمت ادا کر رہا ہے ۔بھٹو نے عوام پر بھروسہ کیا لیکن عوامی طاقت طاقتور فوج کو چیلنج کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔الجزائر میں ماضی قریب میں مذہبی جماعتوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔طاقتور فوج نے عدلیہ کے ساتھ مل کر انتخابی نتایج منسوخ کرا دئے ۔مذہبی جماعتوں کی مسلح بغاوت دس سال چلی لاکھوں لوگ مارے گئے لیکن حتمی فتح فوج کو حاصل ہوئی اب الجزائر میں فوجی مافیا کی مرضی کی جمہوریت چل رہی ہے ۔
مصر میں اخوان المسلمون کی مذہبی حکومت طویل جدوجہد کے بعد عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی ۔صدر مرسی نےجمال عبدالناصر ،انوار السادات اور حسنی مبارک کی عدلیہ میڈیا اور دیگر اداروں میں موجود جڑیں کاٹنے اور سچ مچ کی جمہوریت قائم کرنے کی کوشش کی اور بم کو ٹھوکر مار دی ، صرف ایک دھرنے کے بعد جنرل سسی کے ذریعے فوج نے اقتدار پر پھر قبضہ کر لیا۔فوجی حکومت کے خلاف دنیا کی موجودہ تاریخ کا سب سے بڑا دھرنہ دیا گیا۔اخوان المسلمون کے اس دھرنے کو بے رحم فوجی طاقت نے دو ہفتوں میں کچل دیا ہزاروں مصری مارے گئے لیکن ریاستی طاقت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکا ۔مصر میں اب امن ہے اور فوجی جمہوریت بھی۔سابق صدر مرسی جیل میں اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔پالتو عدلیہ کی طرف سے ہر مہینے درجنوں راہنماؤں اور کارکنوں کو ملنے والی سزاوں کا اعلان ہوتا ہے۔
بنگلادیش میں پوری بنگالی قوم نے فوج کے خلاف بغاوت کر دی تھی ۔چار دن کے بے رحم فوجی آپریشن نے پورے مشرقی پاکستان میں بد امنی ختم کر دی تھی۔بھارت کی طرف سے مکتی باہنی کو اسلحہ کی فراہمی اور مشرقی پاکستان پر براہ راست حملہ نہ ہوتا تو آپریشن کامیاب ہو چکا تھا۔بھارتی مداخلت نہ کرتے اور بنگالیوں کی نفرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں مسلح نہ کرتے مسلہ حل ہو جاتا اور شائد مشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔
احتجاجی تحریکوں سے اگر فوج کو شکست دی جا سکتی تو تامل ٹائیگر سری لنکا کو دو حصوں میں تقسیم کر چکے ہوتے۔بھارت نے راجیو گاندھی کے قتل کے بعد تامل ٹائیگر کی حمائت سے ہاتھ اٹھایا مختصر مدت میں تامل ٹائیگر سری لنکن فوج سے شکست کھا گئے۔
مسلح بغاوت اور عوامی حمایت سے اگر طاقتور فوج عدلیہ میڈیا اور ریاستی اداروں کو شکست دینا ممکن ہوتا تو بلوچ قوم پرست کامیاب ہو چکے ہوتے ۔مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقہ جات میں پاکستان کا پرچم نہ لہراتا۔
میاں نواز شریف نے غلطی کی ہے اور جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف نے طاقتور فوج کو چیلنج تو کر دیا اور فوج کے طاقت کے مرکز پنجاب میں فوج کی حمایت کو بھی نقصان پہنچادیا لیکن اب انہیں اس کی قیمت ادا کرنا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت ابھی اتنی مستحکم نہیں ہوئی تھی جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ ہضم کر سکتی۔اندرونی اور بیرونی مسائل اور چیلنجز کی وجہ سے فوج نے میاں نواز شریف کی غلطی معاف کر دی تھی۔جنرل مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے پر عمرانی دھرنے سے تحفظ بھی دے دیا گیا تھا لیکن میاں نواز شریف نے دوسری غلطی کر دی۔سی پیک کے معاملہ پر اسٹیبلشمنٹ کو اعتراضات نہیں تھے لیکن سی پیک ایسے سٹرٹیجک معاملہ پر فوج کو ایک فریق کے طور پر شامل نہ کرنا سابق وزیراعظم کے ناقابل معافی غلطی تھی اور اس غلطی کی سزا عمران خان کی صورت میں اب پوری قوم کو بھگتنا ہے۔
میاں نواز شریف کو شائد چینیوں پر بھروسہ تھا اور اپنے دور کے ترقیاتی منصوبوں کا زعم تھا ۔چینی صرف اشارے دے سکتے تھے انہوں نے برکس کانفرنس میں حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دے دیا۔چینیوں نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی اجازت دے دی۔چینیوں نے سی پیک منصوبوں کی سرمایہ کاری روک کر نواز شریف کی حمائت کے اشارے دئے لیکن یہ اشارے قبول نہیں کئے گئے چینی اب اور کچھ نہیں کریں گے ۔وہ نواز شریف کی اس سے زیادہ مدد نہیں کر سکتے۔
میاں نواز شریف اگر جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ کے بعد دوسری غلطی نہ کرتے اور سی پیک کے معاملہ پر طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لے کر چلتے تو ان کے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔جمہوریت ایک تسلسل کے ساتھ مستحکم ہوتی ہے ۔صرف دو جمہوری حکومتوں کا تسلسل ابھی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کیلئے ناکافی تھا۔ترکی میں طاقتور فوج سے نجات معیشت کو مستحکم کر کے حاصل کی گئی ہے۔میاں نواز شریف کے پاس تاریخی موقع تھا ۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ معاشی استحکام حاصل ہونے جا رہا تھا ،سابق وزیراعظم نے غلط وقت پر بم کو ٹھوکر مار دی۔
طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بگاڑ پیدا نہیں ہونا چاہے تھا۔اب ہم سب بھگتیں گے ۔ووٹ چوری سے اقتدار حاصل کرنے والوں کے پاس معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ۔معاشی ابتری نظر آ رہی ہے۔اب سی پیک کی تکمیل کیلئے چینیوں کی شرائط تسلیم کرنا ہیں یا آئی ایم ایف پروگرام کیلئے امریکی شرائط ماننا ہیں۔اب میاں نواز شریف کے پاس بھی کوئی راستہ موجود نہیں ۔کوئی احتجاجی تحریک ریاستی طاقت کو چیلنج نہیں کر سکتی ۔اب صرف رحم کی درخواست کی جا سکتی ہے ادارے اور اداروں میں موجود افراد اپنی اناوں کے حصار سے باہر نکلیں اور سب مل جل کر درپیش چیلنجز کا سامنا کریں تو بات بنے گی دوسری صورت میں معاشی ابتری سے اسٹیبلشمنٹ کو نہیں بلکہ پاکستان کو نقصان ہو گا معاشی ابتری کی وجہ سے اگر فوج کو نقصان ہوا تو وہ بھی پاکستان کا نقصان ہو گا ۔دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں لیکن معاشی بحران نے سابقہ سوویت یونین کے جنرلوں کو سڑکوں پر اپنے میڈل فروخت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
چینیوں کے 40 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں وہ آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔امریکی آپ کو سی پیک مکمل کرنے کی اجازت نہیں دیں ۔بھارتی موقع کی تلاش میں ہیں اور یہاں عجیب و غریب حکومت قائم کر دی گئی ہے۔نواز شریف نے غلطی کر دی ہے کیا ہی اچھا ہو اگر معاملات پھر سے درست ہو جائیں ۔شہباز شریف موجود ہیں غلط فہمیاں دور کی جا سکتی ہیں ۔معیشت مستحکم ہو جائے تو پھر وقت کے ساتھ ساتھ ترکی کی طرح جمہوریت بھی۔مستحکم ہو جائے گی ابھی تو مصری ماڈل چل رہا ہے۔

متعلقہ مضامین