وزیراعلی پنجاب کو ابھی بلائیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کو فوری طور پر طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وزیراعلی نے جمیل گجر کے پاس مانیکا کے بچوں کو کیا گارڈین شپ سرٹیفیکیٹ دیکھ لیا تھا جو پولیس افسران کو بلا کر بٹھایا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جمیل گجر کو بھی فوری بلایا جائے ۔

چیف جسٹس نے آئی جی کلیم امام کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ آپ نے اپنی رپورٹ میں سب اچھا لکھا ہے، اس کے بعد کیا آپ سندھ کے آئی جی رہ سکتے ہیں، ایک شخص کو بچانے کیلئے جھوٹی رپورٹ بنائی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آر پی او اور ڈی پی او کی جمیل صاحب (گجر) سے ملاقات ہوئی تھی، مسٹر جمیل وزیراعلی کے پاس سفارش لے کر گئے تھے ۔ آئی جی کلیم امام نے کہا کہ مجھے یہ ٹاسک ملا تھا کہ کیا جمیل گجر نے کوئی غیر قانونی اقدام کیا ہے یا نہیں؟ ۔ اس کمرے میں چار افراد تھے۔ دو پولیس افسران اور جمیل گجر کے ساتھ وزیراعلی پنجاب ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس کمرے میں جو گفتگو ہوئی تھی کیا اس کا پتہ ہے؟ معلوم ہوا؟ مجھے اس کمرے میں کی گئی ان کی گفتگو چاہیئے جس پر آپ نے اپنی انکوائری رپورٹ پر جرح کی ہے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ نے پولیس افسران کے بیان حلفی دیکھے ہیں، کیا ان کی بنیاد پر جرح کی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اسی سے فیصلے ہونا ہے۔ میں نے آپ کو اتنا وقت اس لئے دیا تھا کہ اپنی پہلی غلطی کو درست کر لیں مگر آپ نے یہ رپورٹ بنا کر دیدی ۔ آئی جی کلیم امام نے کہا کہ میں نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اپنی رپورٹ سے پولیس افسران کو جھوٹا ثابت کر دیا، ایک آدمی کو بچانے کیلئے ۔ یہ دیانت دارانہ رپورٹ نہیں ہے، آپ کے سروس ریکارڈ کو خراب کرے گی ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے