چیف جسٹس اور خاتون وکیل میں تلخی

سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار ملزمان انور مجید، عبدالغنی مجید اور حسین لوائی کے طبی معائنے کے لئے سرجن جنرل آف پاکستان کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کی کہ طبی معائنے کی رپورٹ پانچ دن میں پیش کی جائے ۔ میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست ایف آئی اے کی جے آئی ٹی نے کی تھی ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی بنچ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار عبدالغنی مجید کے معائنے کے لئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کیلئے ایف آئی اے کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جناح اسپتال کراچی کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی سے کہا کہ میں آپ کو اتنا کمزور نہیں سمجھتا تھا، آپ ایک شخص کے مرض کی تشخیص نہیں کر سکتے، بواسیر کے مرض کا علاج کتنے دنوں میں ہوتا ہے؟ میں کوئی ہومیو پیتھک دوائی بھیج دوں گا، جناح اسپتال کے دورے میں آپ کی عزت رکھی تھی، آپ کی بات پر اعتبار کر کے ایم آر آئی مشین چیک کرنے نہیں گیا، میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچا ۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ کیا یہ صوبائی حکومت کی ناکامی نہیں ہے ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم مکمل تعاون کر رہے ہیں، ڈاکٹرز کو کام کرنے کی آزادی ہے مداخلت نہیں کی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اب سندھ حکومت پر اعتبار نہیں کر رہے، سیکرٹری صحت پر بھی کوئی اعتماد نہیں رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حسین لوائی، انور مجید اور عبدالغنی مجید کا طبی معائنہ کرائیں گے، سندھ میں ڈاکٹرز نہیں کر سکے اب اسلام آباد سے کرائیں گے ۔

عدالتی استفسار پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ عبدالغنی مجید 27 اگست سے اسپتال میں ہیں۔ تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ کے ڈاکٹرز پر اعتماد نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے یہ تاثر کیوں نہ جائے ۔ سرجن جنرل آف پاکستان ڈاکٹر زاہد کی سربراہی میں بورڈ تشکیل دیں گے، ان کی مرضی کہ وہ خود چیک کریں یا کوئی کمیٹی تشکیل دیں ۔

انور مجید اور عبدالغنی مجید کی وکیل عائشہ حامد نے موقف اختیار کیا کہ سندھ کا مقدمہ پنجاب کیوں بھیجا جا رہا ہے، کیس متعلقہ عدالت میں چل رہا ہے، ٹھوس وجوہات کے بغیر میڈیکل بورڈ نہیں بن سکتا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں عبدالغنی مجید کی پائلز (بواسیر کا مرض) کیلئے ہومیو پیتھک دوائی بھیج دیتا ہوں ۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ان کو انفیکشن ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سندھ سے باہر میڈیکل بورڈ بنا کر طبی معائنہ کرائیں گے ۔ وکیل عائشہ حامد نے عدالت میں کیس کی فائل پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ کیا بات کی جارہی ہے کہ سندھ کا میڈیکل بورڈ نہیں بن سکتا، کیا پنجاب میں بننے والا میڈیکل بورڈ پنجابی ہوگا، قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ۔ ایف آئی اے خود ملزم کو جناح اسپتال لے کر آ گئی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں ہم ملزم کا طبی معائنہ اسلام آباد میں کرا لیتے ہیں ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے خاتون وکیل سے کہا کہ قانون سے ہٹ کر بات نہ کریں، صوبائیت کو نہ لائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی اس میں صوبائیت کہاں سے آ گئی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عائشہ حامد نے کہا کہ میں اس کا جواب دے رہی ہوں جو آپ نے بار بار ریمارکس میں سندھ سے میڈیکل کرانے پر بات کر رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ٹون ڈاؤن ( آواز اونچی نہ کریں) رکھیں، پھر سخت لہجے میں کہا کہ دوبارہ کہہ رہا ہوں پلیز اپنی ٹون ڈاؤن رکھیں ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ غیر متعلقہ اور اسکینڈلس امور کو ایک طرف رکھیں ۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سرجن جنرل آف پاکستان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، کیس کی مزید سماعت 24 ستمبر کو ہوگی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے