آرٹیکل چھ اور ڈیم مہم

عبدالجبارناصر

آج کل پاکستان میں ڈیم تعمیر کرو مہم زوروں پرہے اور اس طرح کی مہم ماضی میں بھی چلتی رہی مگر افسوس کہ کبھی ذاتی مفادات اورکبھی سیاست کی نظر ہوئی ۔ اب کی بار خوشی ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے، چیف جسٹس اور سول حکومت ایک صف میں ہیں۔ تازہ مہم کا آغازچیف جسٹس آف پاکستان محترم جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے کیا(مجھے خوشی ہے کہ اس میں میری ایک دن کی حق حلال کمائی بھی شامل ہے ) اور قوم نے اس پر لبیک کیاہے(چند جزیات پر اختلاف اپنی جگہ) اگرچہ ڈیم یا اس نوعیت کے منصوبے چیف صاحب کے دائرہ کار میں نہیں آتے مگراس کو حکمرانوں نا اہلی کہیں یا پھرکرسی حاصل کرنے یا بچانے کی کوشش کہ وہ ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور مجبوراً بابائے قوم کو خود آگے آنا پڑا۔ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے چیف صاحب کا جزبہ قابل تحسین ہے مگر ان کی جانب سے آرٹیکل 6 کے مطالعے اورکارروائی(یعنی غدار وطن قراردینا) کا انتباہ مناسب نہیں ہے۔
محترم چیف صاحب جان کی امان پائوں تو کچھ عرض ہے!
(1)ڈیم کا مخالفت کے دو اسباب ہوسکتے ہیں ایک جائز اور دوسرا نا جائز۔جائز یہ کہ لوگوں کے جائز مسائل اور ان کا ازالہ کرکے معاملے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ناجائز یہ کہ کسی بیرونی اشارے یا تخریب کی نیت سے مخالفت کی جاتی ہے تو قانون کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرکے اور سزا دی جائے مگر دونوں کے ساتھ یکساں سلوک افسوسناک اورانصاف کے خلاف ہے۔
(2)یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کا مخالف کون ہے ؟ اگر دیامر بھاشا ڈیم کی رائلٹی ،ملکیتی حقوق اور معاوضوں کے حوالے سے مطالبے کو مخالفت (غداری)قرار دیا جا رہا ہے تو یہ غلط ہے۔
(3)گلگت بلتستان کے عوام اس ڈیم کی تعمیر کو اپنے روشن مستقبل سے تعبیر کرتے ہر قربانی کے لئے تیارہیں تاہم دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے ان کے کچھ جائز مطالبات اورگلگت بلتستان اور حکومت پاکستان کے مابین رائلٹی اور ملکیت کااختلاف بھی ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے 95فیصد سے زائد حصہ گلگت بلتستان کا متاثر ہوگا مگر آئین کے مطابق رائلٹی اور ملکیت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اوررائلٹی و ملکیت خیبر پختونخوا کے حصے میں آئے گی کیونکہ آئین اس کو یہ حق دیتا ہے ،جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم سے خیبر پختونخواکا تقریباً 5فیصد حصہ متاثر ہوتا ہے ۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر اس حق کے لئے کوئی بات کرے تو کیا اس پر بھی آئین کے آرٹیکل 6 کا استعمال کرکے غدار وطن قرار دیا جائے؟
(4)کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان کو بٹھاکر اس تنازعہ کا حل تلاش کرتے اور اب بھی اس کی ضرورت ہے کیونکہ ایک نہ ایک دن اس تنازعہ نے کھڑا ہونا ہے۔آپ خود بھی ڈیم کے پورے حصے کا معائینہ کرسکتے ہیں۔
(5)جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے حوالے سے سوائے چند جزیاتی مسائل کے کوئی بڑا اختلاف تھا اور نہ ہے، اس لئے تمام تر توجہ انہی پر مرکوز ہونی چاہئے مگر ملکی تاریخ کے متنازعہ ترین کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی ’’طرح ‘‘دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی مہم کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ ملکی سلامتی اور بقا سے بڑھکر کوئی چیز نہیں۔
(6)کالا باغ ڈیم کو تین صوبوں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی اسمبلیاں ایک سے زائد بار مسترد کرچکی ہیں، بلکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں ایک بڑا طبقہ اس کو اس کو موت و حیات کی جنگ اور ملکی سلامتی و بقا کے لئے خطرناک قرار دے رہا ہے، اسی صورت میں آرٹیکل 6 کس کس پر لگے گا؟
(7)چیف صاحب! ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے خدشات اور تحفظات معلوم کرکے ان کے تدارک کی کوشش کیجائے اور اس کے لئے آپ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
(8)چیف صاحب! آپ آرٹیکل 6کا مطالعہ ضرور کریں مگر پانی کی تقسیم کے حوالے سے سندھ اور پنجاب کے 160سالہ تنازعات، معاہدات،پانی کی تقسیم کے حوالے سے اسلامی و عالمی قوانین، ایک آمر کی جانب سے 8 کروڑ میں پاکستان کے تین دریا فروخت کرنے کی داستان اور رپورٹس کو بھی ضرور دیکھیں۔
(9)چیف صاحب! کہا جاتا ہے کہ 80فیصد پانی سمندربرد ہوتا ہے مگر سندھ میں سمندر کو اس کے مناسب حصے کا پانی نہ ملنے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں ایکڑ زمین سمندر برد یا بنجر ہورہی ہے۔مختلف ماہرین اب تک کی سمندر برد ذرعی زمین کا اندازہ 12سے 15لاکھ ایکڑز لگاچکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے بعض رپورٹوں کی بازگشت رہی ،جن میں کہاگیا ہے کہ اگر سمندر کو اس کے حصے کا مناسب پانی نہ ملنے کی وجہ سے زمین کھانے کا عمل اسی طرح جاری رہا تو آئندہ 40سے 50سال میں بدین ، ٹھٹھہ، سجاول،دادو کا ایک بڑا حصہ مٹ چکا ہوگا اور بعض کا تو کہنا ہے کہ 50سے 70سال میں پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی اپنا وجود کھوکر تاریخ کا حصہ بن چکا ہوگا۔
(10)خلاصہ یہ ہے کہ اب ہمیں غدار اور وفادار کے نعروں سے بالاتر ہوکر ملکی بقا اور سلامتی کے لئے مل جل کر حل نکالنا ہے اور یہی دیر پا بہتر حل ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے