گیس قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ 2013 میں منافع بخش گیس کمپنیاں 2018 میں 152 ارب روپے کے خسارے پر تھیں، گیس کی قیمتوں میں 10 سے 19 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے.

ای سی سی اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسن کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے بتایا کہ 2013 میں گیس کمپنیاں منافع پر چل رہی تھی، 2018 میں گیس کمپنیوں کو 152 ارب کے خسارے کا سامنا تھا، ایندھن کے لئے 60 فیصد صارفین ایل پی جی اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں، گیس کی قیمت میں پہلے دوسلیب پر 10 سے 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تیسری سلیب 19 فیصد اضافہ کیا گیا ہے. وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ بڑے صارفین کے لیے کیا گیا ہے، ایل پی جی پر تمام ٹیکس ختم کرکے 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا ہے. وزیر پٹرولیم نے دعویٰ کیا کہ ایل پی جی کی فی سلنڈر قیمت میں 200 روپے تک کمی کی گئی ہے اور ایل پی جی صارفین کو اربوں روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے. انہوں نے کہا کہ گیس پر برآمد کنندگان صنعتوں کے لیے بھی سبسڈی دی جارہی ہے، پہلے پنجاب کا صارف مہنگے گیس خرید رہا تھا جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا کے صارفین کو کم قیمت میں گیس دستیاب تھی. وزیر پٹرولیم نے کہا کہ گزشتہ حکومت کا ایل پی جی معاہدہ خفیہ رکھا گیا، معاہدے کی ایف آئی اے اور نیب تحقیقات کر رہے ہیں. وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں گاڑیاں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت میں فروخت ہوئی ہیں، نیلامی میں اب تک 70 سے زائد گاڑیاں فروخت ہو چکی ہیں. وزیراعظم کےحکم پر گورنر ہاؤس عوام کے لئے کھول دیے گئے ہیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے