ہائیکورٹ میں نیب کی قلابازیاں

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوازشریف، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت ایک بار پھر کل تک ملتوی کر دی گئی ۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کیا عدالت مفروضے کی سزا کوبرقراررکھے جس طرح سے ٹرائل کورٹ نے مفروضے پرمبنی فیصلہ دیا ۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ نوازشریف اورمریم نوازکوایک ساتھ ملکیت پرسزا کیسے ہوسکتی ہے؟ نیب قانون کی شق 9 اے کے تحت دونوں کوسز ا نہیں ہوسکتی، آدھا کیس تو یہیں ختم ہو جاتاہے ۔
جسٹس اطہر من اللہ اورجسٹس گل حسن اورنگزیب پرمشتمل ڈویژن بنچ نے نوازشریف و دیگر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کی ۔ نیب پراسیکیورٹر نے بنچ پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ فاضل ججزکے وکلاء تحریک سے متعلق باتیں چل رہی ہیں ۔ جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا کہ وکلاء تحریک قانون کی حکمرانی کیلئے تھی، منصب پربیٹھنے کے بعد کے فیصلے دیکھ لیں کسی کی پرواہ نہیں کی ،اس لیے پہلی سماعت میں ہی فریقین سے عدالت پراعتماد سے متعلق پوچھا تھا ۔

نیب پراسیکیورٹر نے درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے پر دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے والد کے طورپرجائیداد کا بتانا تھا تاہم کچھ نہیں بتایا ، نیب کی تفتیش میں ملزمان شامل ہی نہیں ہوئے، نیب ملزمان کی ملکیت کے ثبوت سامنے لایا تو توبارثبوت نیب پرنہیں بلکہ ملزمان پرتھا ۔ عدالت نے کہاکہ گواہ واجد ضیاء نے آمدن اوراخراجات کا چارٹ عدالت میں پیش نہیں کیا ۔ اکرم قریشی نے کہا کہ ملزمان نے سپریم کورٹ میں آمدن اوراخراجات کا کوئی جواب نہیں دیا، مریم نوازکی ٹرسٹ ڈیڈ بھی جعلی نکلی جس پرکپٹن ر صفدرنے دستخط کیے تھے ۔ اکرم قریشی نے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا توجسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے متاثر ہوئے بغیرٹرائل کی ہدایت کی تھی جس پرنیب پراسیکیورٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ایسی کوئی ہدایت نہیں ہے ۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ حتمی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا ہمارا فیصلہ ٹرائل کورٹ پراثراندازنہیں ہوگا، کیا نیب چاہتا ہے عدالت مفروضے پرکرمنل سزا کوبرقراررکھے جس طرح سے ٹرائل کورٹ نے مفروضے پرمبنی فیصلہ دیا، بنچ نے اس فیصلے کودیکھنا ہے ۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ نوازشریف اورمریم نوازدونوں کوایک ساتھ ملکیت پرسزا کیسے ہو سکتی ہے؟ مریم نوازکوسیکشن 9 اے 5 کے تحت سزا کیوں ہوئی اگر اس شق کے تحت دونوں کو سز ا نہیں ہوسکتی توآدھی سزا تووہیں ختم ہو جاتی ہے ۔

نیب پراسیکیوٹر نے ملزمان کے آمدن اور اخراجات کے چارٹ کیلئے ایک روز کی مہلت طلب کی تو بنچ نے کہاکہ ہم کھلے دل ودماغ سے بیٹھے ہے ۔ نیب پراسیکیورٹر کو کتنی بار مہلت دے چکے ہیں ہرچیز کی حد ہوتی ہے، بدھ تک دلائل مکمل کرلیں ورنہ تحریری جواب پرفیصلہ دے دیں گے ۔ عدالت نے سماعت ایک روزکیلئے ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے