میں وزیراعظم ہوں، میری بھی تو سُنو

سلمان درانی

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر بننے والی اقوام متحدہ کے منشور میں اقوام عالم کے اتفاق سے یہ لکھ دیا گیا تھا کہ ہماری نسل نے دو عظیم اور بھیانک جنگیں دیکھی ہیں جس کے خوفناک نتائج سے جنگ زدہ اقوام اب تک باہر نہ آ پائیں ۔ منشور میں اعادہ کیا گیا کہ آنے والی نسلوں کو جنگ جیسی خوفناک تباہی سے بچانا چاہتے ہیں ۔

ایک طرف یہ تو دوسری طرف جنگوں کا بھوت اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں بھی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ پسندی سے شروع ہوجائیں اور مغربی ممالک، مشرک وسطا سے گھومتے ہوئے ایشیا تک ذرا دھیان سے آئیے کیونکہ آپکو ایک سرے سے دوسرے تک ہر جانب لڑایاں، ناراضگیاں، اور ہلچل ہی نظر آئے گی۔ کئی بار تو آپ خود سے پوچھتے رہ جائیں گے کہ لڑائی ہے تو کس وجہ سے؟ پاک بھارت لڑائی کی ہی مثال لے لیجئے. کشمیر کا معاملہ حل نہیں کرنا, ہاں پوائنٹ اسکورنگ کے لیئے اور دفاع دفاع کھیلنے کو اس سے بہتر موضوع فی الوقت کوئی نہیں ہے. کیونکہ دونوں اطراف کے لوگ جانتے ہیں کہ اونچی آواز میں بات تو کی جاسکتی ہے مگر ہاتھا پائی قطعاً ممکن نہیں ہے, بنیادی سی بات ہے, دونوں طرف ایٹمی مردانہ طاقت کا زور ہے اور بس۔

وزیراعظم عمران خان کا حالیہ سعودی دورے کے دوران شیخوں کے ساتھ جھپی کو مزید مضبوطی دیتا بیان بڑی خاص اہمیت رکھتا ہے. خان صاحب کا یہ بیان کہ وہ مسلمان ممالک میں اتحاد چاہتے ہیں لڑائی ختم کرنے کے لیئے ثالثی کا کردار ادا کرسکتے ہیں, ان کے دوسرے بیان کی ساخت پر سوالیہ نشان ہے. جیسے مجھے عام دکانوں سے زیادہ وہ دکانیں زیادہ بھاتی ہیں جن پر 70 فیصد سیل لگی ہو. اس بات کی پرواہ نہیں کہ سیل کے باوجود بھی چیز مجھے اتنے کی ہی پڑجانی ہے. سوال یہ ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیئے سعودی عرب کے کردار کو پُرانی عینک سے دیکھا جائے یا کہ نئی۔ اگر پرانی والی سے دیکھیں تو پاکستان کو سعودی فتنے سے ہاتھ بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا. وہ دن بھی کتنے سُنہرے تھے جب ہم اچھے بچے ہوا کرتے تھے, ڈالر نہیں لیں گے, صرف ملکی مفاد, اور چور ڈاکو شریف خاندان کی باتیں ہوا کرتی تھیں. اب جب وہی جماعت حکومت میں ہے تو وہی لوگ جدہ میں ملاقاتیں کرکے شاباشی بھی دیتے ہیں, پیسے بھی مانگتے ہیں اور سعودی عرب کے دفاع کے ہر ممکن وعدے بھی کرتے ہیں. دلچسپ بات یہ کہ یہ صرف موجودہ حکومت کا مشغلہ نہیں, یہ عادتیں بڑی پُرانی چلی آرہی ہیں. ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو بھی مسلم دنیا کا لیڈر بننے کا شوق کیا کچھ نہیں کروا گیا. سعودی ریالوں پر ہی ملکی آئین میں پہلی متنازعہ ترمیم کی باتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی کہاں ہیں.

اور بلیک ستمبر بھی تو ہماری تاریخ میں بڑی یاد رکھنے والی چیز ہے. یہ صورتحال پاکستان کو غالباً ستر کی دہائی میں درپیش آئی. اُردن کے صدر کی جانب سے فلسطینی تنظیم بلیک ستمبر کو کچلنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پاکستان سے مرد مومن برگیڈیر ضیاء الحق صاحب کو آپریشن کے مخصوص حصے کی کمان دے کر فلسطینیوں کا قتل عام کروایا گیا ۔ 25 ہزار سے زائد معصوم شہریوں کا صفایا کرنے پر برگیڈئیر صاحب کو حسن کارکردگی کے اعزاز بھی ملے۔

جنگی جنون تو ویسے بھی ہمارے سروں پر سوار رہتا ہے۔ پھر جذبہ ایمانی ہم سے کیا کچھ نہیں کروا لیتا۔ عمران خان صاحب نے بھی ضیاء صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم کو جذباتی کردیا. عوام نے جب خان صاحب کا جُرابوں میں مدینہ کی سرزمین پر اترنا دیکھا تو دھاڑیں مار مار کر رودیئے. عربی چینل کو ایسا جذباتی بیان دیا کہ عربی صحافی بھی ایک بار جذبہ ایمانی سے لرزا ضرور ہوگا, کہ وہ ایسے لیڈر کا انٹرویو کر رہا ہے جس نے عرب سرزمین کا دورہ کرنے کو ترجیح اپنے ایمان کے زور پر دی. خان صاحب عوام کے خرچ پر سرکاری دورے کے دوران بمع ہمنواواں کے عمرے کی سعادت سے ہمکنار بھی ہوئے. اور بس سب اچھا ہی رہا, کچھ بھی بُرا بظاہر دیکھنے میں نہیں آیا, سبھی بڑے نیک لوگ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جہاں دُنیا کو فی الحال امن و امان کی شدت سے ضرورت ہے, وہاں سعودی حمایت میں پھینکا پاکستان کے وزیراعظم کا کارڈ کل کو کیا نتائج لائے گا. چاہے وہ کوئی بھی بنیاد ہو, انسانی بنیادی تقاضہ تو یہ بنتا ہے کہ معصوم لوگوں کے خون کا یہ سودا ہرگز قابل قبول نہیں ہونا چاہیے. لیکن مالک شائید ملکی سالمیت کو لے کر کچھ بہتر ہی سوچتے ہونگے, اگر میں یہاں غلط ہوں تو شائید ٹھیک ہی ہوں. کیونکہ خان صاحب خود نہیں چل رہے, ان کو چلایا جارہا ہے.

اہم نکتہ یہ کہ عمران خان صاحب کے کسی بھی اقدام کو اس طرح سے دیکھنا شروع کردوں کہ وہ تنہا فیصلے کر رہے ہیں تو میں خود سے اور آپ سے جھوٹ کا مرتکب ہو رہا ہوں ۔  پچھلے ادوار میں اپنی من مانیاں کرنے والی لابی ان الیکشنز میں ان ایکشن نظر آئی اور مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کے بعد ہر جگہ غالب نظر آ رہی ہے ۔ کیا یہ محظ اتفاق ہے، یہ تو کوئی 17 سال کا بچہ بھی بتاسکتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ ایک جمہوری بندوبست میں بھلا ایک ملک کی دفاع کا کیا کام کہ عالمی معاملات میں ملک کے اہم فیصلوں میں اس قدر دخیل اور مختار ہو جائے کہ کسی بھی ملک کا دورہ کرے اور وہاں تمام معاملات خود سے ہی طے کر آئے ۔ کیا عوام اس کا مینڈیٹ آرمی چیف اور چیف جسٹس کو دے چُکے ہیں کہ داخلی اور خارجی انتظامی معاملات میں فیصلہ سازی کریں؟ اگر ہاں تو پارلیمنٹ میں بیٹھے منتخب نمائندوں کو گھر بھجوا دیا جائے جن کا یہ کام ہے کہ وہ عوامی نمائندگی کرتے ہوئے ملکی مفاد کے اہم فیصلے باہمی رضامندہ اور اتفاق رائے کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر کریں ۔ یہی جمہوری طور طریقے ہوا کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس صاحب کو ڈیم کی تعمیر جیسے سیاسی معاملے پر فیصلے کا حق کس نے دیا جبکہ معاملہ محظ  انتظامی طرز ہے ۔ یہ بات کون سمجھائے کہ دیامیر بھاشا ڈیم سندھ کی خُشک سالی میں اضافے کا باعث بنے گا ۔ تو کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ اس ڈیم پر بات کی جائے جس پر اتفاق رائے موجود ہے؟ یہ کون کر سکتا ہے؟ یہ وہی کرسکتے ہیں جو ہمارے نمائندے ہیں، جن کو مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ ہماری بہتری کے فیصلے کریں ۔

عبرت کا نشان بنا دیئے گئے سابق وزیراعظم کی مثال سب کے سامنے ہے، مالکوں نے عمل کر کے بتا دیا ہے کہ بات نہ ماننے والوں کا حشر اس سے بھی بُرا ہوگا ۔ خان صاحب نواز شریف سے خود کو بہتر درجے پر رکھ کر بھی دیکھ لیں تب بھی حقیقت وہی رہے گی۔ خان صاحب کو لگی ایک چوٹ ان کو راستے سے ہٹانے کے لیئے کافی ہوگی۔ وزیراعظم اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ سب چیزوں پر غلبہ حاصل کرلیں گے تو کیا وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ ان سے پہلے والے وزرائے اعظم نے ایسی کوششیں نہیں کی ہوں گی؟ موجودہ صورتحال ملک میں جمہوری اقدار اور جمہوریت پسندوں کے لئے چیلنج ہے۔ یہ وقت ہے کہ ملک کو اس مِنی مارشل لاء سے نکالنے کا سوچا جائے ۔

ملک کے انتظامی امور آج کل کن دو بڑے اداروں کے ہاتھوں میں ہیں، یہ سب کو معلوم ہے ۔ خان صاحب کا ہر طرح کے امور پر سرنڈر بھی سب پر عیاں ہے ۔ ایک بڑی دلچسپ بات یہ دیکھی گئی کہ بے چارے وزیراعظم صاحب کوئی فیصلہ کر بیٹھتے ہیں اور بیان جاری ہو جاتا ہے ۔ ٹھیک اگلے ہی روز ان سے ان کا بیان فیصلے سمیت واپس کروایا جاتا ہے ۔ ایسی صورتحال سے تو پروفیسر حسن عسکری بطور عبوری وزیراعلیٰ بھی دوچار نہیں ہوئے ہوں گے ۔ ان کو یہ دکھاوا تو نہیں کرنا پڑا کہ ‘میں وزیراعظم ہوں، میری بھی تو سُنو’ ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے