صدارتی پروٹوکول اور مقدمات

کراچی میں صدارتی پروٹوکول سے متاثرہ شہریوں کے خلاف مقدمات کے اندراج پر صدر مملکت عارف علوی ناراض ہو گئے تاہم ان کی ناراضی صرف ٹوئٹر تک محدود ہے ۔

دوسری جانب کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ عارف علوی نے پولیس کے خلاف اس وقت ٹوئٹ کیا جب ان کی اپنی پارٹی کے فکس اٹ والے کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔

یاد رہے کہ ہفتے کی رات شارع فیصل پر کارساز کے مقام پر شہری نے موبائل فون سے وڈیو بناتے ہوئے ٹریفک کی بندش کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے نہ صرف نامعلوم شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کیخلاف کار سرکار میں مداخلت اور دیگر افراد کو اکسانے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کرلیا۔ پولیس تشدد کے خلاف موقع پر عام شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی جس سے فائدہ اٹھا کر نامعلوم شخص پولیس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور گرفتاری سے محفوظ رہا۔

صدر مملکت کے قافلے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں دوسرا مقدمہ تھانہ ٹیپو سلطان میں فکس اٹ کے کارکنوں کیخلاف درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 16 ستمبر کو نرسری بس اسٹاپ کے قریب فکس اٹ کے کارکنوں نے پروٹوکول میں مداخلت کی۔ فکس اٹ کی شرٹس پہنے افراد اچانک سڑک پر آئے اور وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے روکی گئی ٹریفک کو نکالنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد دو سماجی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے