بیچنے والی حکومت کے خلاف احتجاج

 اسلام آباد کی شاہراہ دستور کے ساتھ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی سات منزلہ عمارت کے سامنے ریڈیو کے سینکڑوں ملازمین سڑک کنارے کھڑے احتجاج کر رہے ہیں ۔ احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اس ممکنہ فیصلے کو روکیں گے جس کے تحت ریڈیو کی عمارت لیز پر دینے کا منصوبہ ہے ۔

ریڈیو پاکستان کے ملازمین نے احتجاج کے دوران پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے ۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا  تھاکہ عمارت کو لیز پر دینے کا یہ اقدام ریڈیو ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہے، ریڈیو کا بڑا سیٹ اپ چند کمروں کی اکیڈمی میں نہیں منتقل ہو سکتا ۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 21 اگست کو ملک کے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کو اداریاتی آزادی دینے کا اعلان کرتے ہوٸے آئندہ تین ماہ تک بڑے اور فوری فیصلے کرنے کا اشارہ دیا تھا ۔ وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ ریڈیو پاکستان 1940 اور 1950 میں بنا تھا اس وقت ٹرانسمیٹر بہت بڑے بڑے تھے، اب ٹیکنالوجی آگے چلی گٸی ہے ۔ ایف ایم تو دس مرلے میں لگ جاتا ہے ۔ ریڈیو کی زمین 275 کنال جگہ ہے اور ریلوے کے پاس 70 ہزار ایکڑ جگہ ہے، یہ زمین ڈیڈ پراپرٹیز ہیں اور وزیراعظم کہہ رہے ہیں وہ چاہتے ہیں انھیں استعمال میں لایا جاٸے، اس کو بیچ نہیں رہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے