امل موت کی انکوائری ہوگی

سپریم کورٹ نے کراچی میں دس سالہ لڑکی امل کی پولیس فائرنگ سے موت کی انکوائری کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور مقتولہ کے والدین کے وکیل کو کمیٹی ارکان کیلئے نام تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے امل قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ ایڈیشنل اے آئی جی سندھ اور مقتولہ امل کے والدین عدالت میں پیش ہوئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق مقتولہ کی والدہ بینش نے عدالت کو بتایا کہ تیرہ اگست کی رات ڈکیت نے ہم سے موبائل فون اور پرس چھینا جبکہ بعد میں فائرنگ کی گئی، ایک گولی گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی دس سالہ امل کو لگی، قریبی نجی اسپتال نے طبی امداد فراہم کی اور نہ ہی ان کے پاس ایمبولینس تھی جس کی وجہ سے 20 منٹ بعد امل کی موت واقع ہوگئی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ کیا ایسے اسپتالوں کو کام کرنے دیا جائے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ فائرنگ کی انکوائری پولیس کی بجائے آئی بی سے کرانا چاہتا ہوں ۔ مقتولہ امل کی والدہ نے کہا کہ ہمیں تین دن بعد پتہ چلا کہ فائرنگ پولیس نے کی تھی، کیا پولیس کو اسٹریٹ کرائم سے مقابلے کیلئے بڑے ہتھیار استعمال کرنے چاہئیں؟ ہمیں معاوضہ نہیں چاہیے، درخواست ہے کہ پولیس میں اصلاحات کریں اور اسپتالوں کو زخمیوں کے علاج کا پابند کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بچی کی جان اس طرح نہ جائے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سب مشین گن تو جنگ زدہ علاقوں میں استعمال ہونے والا ہتھیار ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو ماڈل کہا جاتا ہے مگر وہاں بھی اسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ صرف میرے دورے میں دکھانے کیلئے اسپتال میں دو ڈاکٹرز ادھار منگوائے گئے، برملا کہہ رہا ہوں کہ پختونخوا اسپتال ماڈل نہیں ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، وکیل فیصل صدیقی اور ایڈووکیٹ عمیمہ کو ہدایت کی کہ پولیس فائرنگ سے امل کی موت کی انکوائری ٹیم کیلئے افراد کے نام دیں ۔ سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے