ماڈل ٹاؤن واقعہ میں شریف بری

لاہور ہائیکورٹ نے ماڈل ٹاون میں چودہ افراد کے قتل کیس میں نواز، شہباز سمیت سیاست دانوں کو شامل کرنے کی درخواست خارج کر دی ہے ۔ فل بنچ نے نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں کی طلبی کی درخواست کی سماعت کی ۔

جسٹس قاسم خان نے اختلافی نوٹ لکھا،

فل بنچ نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کی درخواست بھی خارج، فل بنچ کا فیصلہ

ہائیکورٹ کے جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے فیصلہ سنایا

فل بنچ نے نواز شریف، شہباز شریف ، رانا ثناءاللہ سمیت دیگر سابق حکومتی شخصیات کو سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ میں طلب نہ کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنایا

فل بنچ نے عوامی تحرہک کے جواد حامداور سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کی درخواستوں پر 27 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا.

بنچ میں جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس سردار احمد نعیم بھی شامل

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی درخواست پر سماعت کرنیوالا فل بنچ 5 بار تحلیل ہوا

لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی درخواستیں تقریباً چار سال زیر سماعت جاری رہی

جواد حامد نے نواز شریف، شہباز شریف ،، رانا ثناءاللہ، سابق وزیر پرویز رشید، سابق وزیر خواجہ سعد رفیق دیگر کو فریق بنایا

درخواست میں خواجہ آصف، عابد شیر علی، بیورو کریٹ سید توقیر شاہ، میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان اور کمشنر لاہور راشد محمود لنگڑیال کو فریق بنایا گیا تھا ۔

سابق حکومتی عہدیداروں کے نام استغاثہ سےخارج کردیے گئے ہیں.۔۔جواد حامد کا موقف

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے حقائق کے برعکس فیصلہ کیا۔۔ درخواست گزار جواد حامد

نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت دیگر لیگی شخصیات کو طلب کیا جائے. ۔۔استدعا

سابق آئی جی مشٹاق سکھیرا نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے طلب کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا

جب سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا، اس وقت عہدے کا چارج نہیں لیا تھا، مشتاق سکھیرا

انسداد دہشت گردی نے ملوث نہ ہونے کے باوجود استغاثہ میں نوٹس جاری کیے، مشتاق سکھیرا

سانحہ ماڈل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نام استغاثہ سے خارج کیا جائے۔۔مشتاق سکھیرا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے