چالیس کنال پر عدالتی قبضہ

سپریم کورٹ نے مظفر گڑھ میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ کی اراضی سے قبضہ ختم کر کے استعمال میں لانے کیلئے انتظامی کمیٹی سے تجاویز طلب کی ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے نیک آدمی نے زمین تعلیمی مقاصد کیلئے وقف کی، ہم نے اس کو بھی خرد برد کر لیا ہے اور اس میں ضلعی عدلیہ بھی شامل ہے ۔ ضلعی عدلیہ 40 کنال سے اپنا قبضہ دس دن میں ختم کر کے زمین ٹرسٹ کے حوالے کرے ۔

سپریم کورٹ میں مظفر گڑھ میں سردار کوڑے خان کی اراضی پر قبضہ کے کیس کی سماعت کے دوران وکیل سردار اسلم نے دلائل دیئے کہ 40 کنال اراضی پر ضلعی عدلیہ قبضہ کیے بیٹھی ہے، یہ زرعی زمین ہے اور اس کا پھل وہاں کی عدلیہ کھا رہی ہے، یہ اس رقبے کے علاوہ ہے جس پر ضلعی عدالتوں کی عمارتیں کھڑی ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا تو ڈسٹرکٹ جج مظفر گڑھ نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے 40 کنال زمین کے پھل کھانے کا علم نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم نہیں کون کھاتا رہا، کون بیچتا رہا، سردار کوڑے خان نیک آدمی تھا، اس زمانے میں تعلیمی مقاصد کیلئے دس ہزار ایکڑ زمین دی، کیا کسی نے اس کی خدمات کے صلے میں کوئی تمغہ میڈل دیا؟ افسوس ہے کہ ہم نے اس زمین کو بھی خرد برد کر لیا، او ذمہ دار ضلعی عدلیہ ہے  جس نے 40 کنال پر قبضہ کیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرسٹ کی زمین سرکاری مقاصد کیلئے بھی ایکوائر نہیں ہو سکتی، ضلعی عدلیہ کا قبضہ غیرقانونی ہے، زمین فوری ٹرسٹ کو واپس کریں، ضرورت پڑی تو پنجاب حکومت کو کچہری منتقل کا حکم دیں گے، دس دنوں میں ضلع کچہری کی زمین کا فیصلہ کریں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے انتظامی کمیٹی سے وقف پراپرٹی کے استعمال پر تجاویز طلب کرتے ہوئے سماعت دس روز کے لیے ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے