پاک افغان سرحد کو باضابطہ بنانے کی حمایت

امریکا نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو منظم اور باضابطہ کرنے کے عمل کی حمایت کی ہے ۔ امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات چاہتا ہے۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اسے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بحالی سب سے زیادہ اہم ہے جس سے مشرق اور مغرب کی تجارت کو سینٹرل ایشین مارکیٹ تک رسائی ملے۔ امریکی نائب سیکریٹری کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینیجمنٹ کا ہونا ضروری ہے ۔

اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ کو پاکستان کی نئی حکومت سے کیا امیدیں ہیں، نائب سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہماری امیدیں ویسی ہی ہیں جیسی دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہیں ۔

’ہم جنوبی ایشیا کی حکمت علمی پر مکمل طور پر کار بند ہیں کہ ہم خطے میں ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ یا دہشت گردوں کی ہر قسم کی کارروائیوں اور پراکسی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

ایلس ویلز نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کا خواہاں ہے ۔ ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد پراکسی گروپ کے محفوظ مقامات ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے ۔

اس سوال کے جواب میں کیا پاکستان کی نئی حکومت نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ دہشت گرد گروپ جو افغانستان میں امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں انھیں پاکستان میں پناہ نہیں دی جائے گی، ایلس ویلز نے کہا کہ ہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ان بیانات جن میں انھوں نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن کی بات کی ہے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ’ہم پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت کریں گے۔‘

افغانستان میں امن قائم کرنے کے حوالے سے امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے کے سوال پر نائب سیکریٹری نے کہا ’پاکستان کو خطے میں ایک ہمسائے کے طور پر بہت اہم کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کو افغانستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کی حمایت کرنی ہے خاص طور پر افغانستان سے آنے والی اشیا کو انڈیا پہنچانے کی اجازت دینا ہے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں کسی بھی کراس بارڈر دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں حکومت کی عمل داری نہ ہونے کا ایڈوانٹیج اٹھا رہی ہے ۔ ہم افغانستان اور پاکستان کے افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

ایلس ویلز نے کہا امریکہ کی پوری کوشش ہے اور وہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان میں ملا فضل اللہ جیسے دہشت گرد گروپ کا مکمل طور پر صفایا ہو۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے