جیل کے وزیر نے قانون توڑا

پنجاب کے وزیر برائے جیل خانہ جات زوار حسین وڑائچ نے رات 3 بجے کوٹ لکھپت جیل کے اچانک دورے میں جیل قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کیں ۔ سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل لاہور نے صوبائی وزیر جیل خانہ جات زوار حسین وڑائچ کے اچانک دورے کے بارے میں شکایت محکمہ داخلہ کو بھیج دی ہے ۔

سپرنٹنڈنٹ جیل اعجاز اصغرنے رپورٹ میں کہا ہے کہ صوبائی وزیر جیل خانہ جات نے بغیراطلاع کے رات 3 بج کر 15 منٹ پر جیل کا دورہ کیا اورقوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جیل کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا ۔ شکایت میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی وزیر زوار حسین وڑائچ کے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس 6 افراد  نے چیک پوسٹ پر تعینات ملازم کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا۔ صوبائی وزیر اور ان کے گارڈز جیل کا مرکزی دروازہ زبردستی کھلوا کر جیل ڈیوڑھی میں داخل ہو گئے ۔

شکایت کے مطابق صوبائی وزیر نے کسی بھی افسر اور ملازم کو جیل کے اندرجانے سے منع کر دیا اور پاکستان پریزن رولز 1978 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جیل ڈیوڑھی کی چابیاں دربان سے چھین کرایک مشکوک شخص کے حوالے کر دیں ۔ صوبائی وزیر کی ٹیم نے ڈیوٹی ملازمین سے واکی ٹاکی سیٹ بھی جمع کر لیے جب کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول نمبر 922 کے تحت کوئی بھی مہمان جیل لاک اپ کے بعد جیل کا دورہ نہیں کر سکتا ۔

کہا گیا ہے کہ جیل قانون کے مطابق کسی بھی مہمان کو جیل کے اندر بغیر سیکیورٹی اسکواڈ جیل کا دورہ نہیں کروایا جا سکتا اور نہ ہی موبائل فون لے جا سکتے ہیں لیکن صوبائی وزیر ڈیوٹی آفیسرسے تلخ کلامی کرتے ہوئے نہ صرف موبائل فون اندر لے گئے بلکہ اپنے ساتھ 6 دیگر افراد کو بھی جیل کے اندر لے گئے ۔

سپرنٹنڈنٹ جیل اعجازاصغر نے اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ محکمہ داخلہ کی ہدایات کے مطابق کوئی بھی وزیٹر سپرنٹنڈنٹ جیل کی اجازت کے بغیر کسی قیدی کا انٹرویو نہیں کرسکتا۔ ہائی سیکورٹی بلاکس میں انتہائی خطرناک 109 قیدی ہیں جن میں کئی دہشت گردی اوردھماکوں کے ملزم بھی ہیں ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے