منشا بم گرفتار نہ ہو سکا

سپریم کورٹ نے پنجاب میں زمیںوں پر قبضے کے ملزم منشا کھوکھر بم اور اس کے بیٹوں کے نام ایگزٹ کنٹرول فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ منشا بم کی سرپرستی کرنے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کرامت کھوکھر اور رکن پنجاب اسمبلی ندیم عباس نے سپریم کورٹ میں معافی مانگ لی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پنجاب کے پولیس افسر شہزاد نے بتایا کہ زمینوں پر قبضہ کرنے والے منشا کھوکھر عرف بم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے کئی جگہوں پر چھاپے مارے اور دیگر ایجنسیوں سے بھی مدد لی مگر ابھی تک  منشا بم کا سراغ نہیں لگا سکے، کوشش جاری ہے ۔

منشا بم کے سرپرست تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کرامت کھوکھر نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ میں نے اس بچے کو چھڑا کر بڑی غلطی کی ہے، جھے معافی دی جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے گزشتہ روز عدالت میں کہا تھا کہ اسے جانتے تک نہیں، اب چھڑانے کا کہہ کر معافی مانگ رہے ہیں ۔ کرامت حسین نے کہا کہ مانتا ہوں پولیس افسر شہزاد کو فون کیا تھا اور کہا تھا کہ میرٹ پر فیصلہ کریں، میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عوامی نمائندوں کی بہت عزت کرتے ہیں، پولیس کے ساتھ زیادتی کی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کی جائیداد پر قبضہ کر لیا، پھر آپ نے چھڑا لیا ۔

ایم این اے کرامت حسین نے کہا کہ آئندہ کبھی زندگی میں ایسا نہیں کروں گا ۔ عدالت نے رکن پنجاب اسمبلی ندیم عباس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے غلط فہمی ہوگئی تھی، مجھے معاف کر دیں، غلط فہمی ہوگئی تھی ان کے ساتھ عدالت آ گیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عوامی نمائندے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں معافی مانگ رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تحریری معافی نامے عدالت میں جمع کرائیں ۔

پولیس افسر شہزاد نے بتایا کہ منشا بم مافیا ہے، سینکڑوں لوگ ان کے متاثرہ ہیں، لوگ بے چارے روتے پھرے ہیں، پچھلی حکومت میں یہ ن لیگ کے ساتھ تھے، یہ مافیا تیس سال سے قبضے کرنے میں ملوث ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے قبضے واگزار کرائیں، منشا تو مفرور ہو گیا ہے، چیف جسٹس نے پولیس افسر سے کہا کہ آپ بم شم سے ڈر تو نہیں گئے؟۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ایم این اے کرامت کھوکھر سے کہا کہ آپ کی جان پھنسی ہوئی ہے، منشا بم سے کہیں کہ پیش ہو جائے، میں تو یہ معاملہ وزیراعظم کو بھیج رہا تھا کہ ان کی پارٹی ہے تو انضباطی کمیٹی دیکھے ۔ کل اور آج کے بیان پر آرٹیکل باسٹھ ون ایف لگ سکتا ہے، بتائیں کب بم کو عدالت میں پیش کریں گے؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی ہمارے پیچھے پیچھے چلتی ہے، جو کام ہم کرتے ہیں یہ بھی شروع کر دیتی ہے، ہم نے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی شروع کی تو آج وزیراعلی کا بیان بھی آ گیا کہ وہ بھی کارروائی کریں گے، سپریم کورٹ کی وجہ سے ایک عورت کو ساٹھ سال بعد قبضہ ملا ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے حکم دیا کہ قبضہ مافیا سے شہریوں کی اراضی چھڑائی جائے اور ملزم منشا بم کو گرفتار کیا جائے ۔ سپریم کورٹ نے منشا بم اور ا س کے بیٹوں کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا بھی حکم دیا ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے