دو ملزمان 12 سال بعد بری

سپریم کورٹ نے عدم شواہد پر قتل کے دو ملزمان کو 12 سال بعد بری کر دیا ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ قابل قبول شہادت ہے اس حوالے سے ابہام دور ہونا چاہیے ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے قتل کے دو ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کی ۔ ملزمان راشد اسلم اور ارشد نبی پر عبدالسمیع کو 2006 میں قتل کرنے کا الزام تھا ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کراچی میں ملزمان نے مبینہ طور پر لاش بوری میں بند کر کے سمندر میں پھینکی ۔ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی ۔

سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کو عدم شواہد اور شک کا فائدہ دے کر بری کرنے کا حکم جاری کیا ۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آبزرویشن دی کہ عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ کو قابل قبول شہادت قرار دیا ہے، عدالت نے کسی فیصلے میں ڈی این اے رپورٹ کو ناقابل قبول شہادت قرار نہیں دیا ۔
جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ناقابل قبول شہادت ہونے کا تاثر غلط ہے، کھلی عدالت میں آبزرویشن ابہام دور کرنے کے لیے دے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے کیس حل ہونے اور کیس ثابت کرنے میں فرق ہے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ جھوٹے گواہ کی وجہ سے اصلی ملزم بری ہو تو قصور عدالت کا بن جاتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے