شہباز شریف کا عدالت کو 55 لاکھ کا چیک

سپریم کورٹ میں پنجاب کی سابق حکومت کے خلاف ضابطہ اشتہارات دینے کے ازخود نوٹس کیس میں سابق وزیراعلی شہباز شریف نے جواب جمع کرایا ہے ۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ اشتہار جاری کرنے کی منظوری شہباز شریف نے بطور وزیراعلی نہیں دی ۔ شہباز شریف نے 55 لاکھ روپے کا نیا چیک بھی عدالت میں جمع کرا دیا ہے ۔
عائشہ حامد ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے پانچ صفحات پر مشتمل جواب میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے 8 مارچ کو 55 لاکھ روپے کا چیک جمع کرایا تاہم عدالت عظمی نے 4 اپریل کو خود چیک واپس کیا ۔ سابق حکومت نے تمام اقدامات نیک نیتی سے کئے ۔ عدالت نے اسد کھرل کی درخواست 15 اگست کو نمٹا دی تھی ۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ 25 ستمبر 2018 کو عدالت نے گائیڈ لائنز جاری کیں ۔

اشتہارات پر رہنماؤں کی تصاویر ماضی کی روایت ہے، جواب کے مطابق وزرائے اعلی، صدر، گورنرز، وزرا، کی تصاویر اشتہارات میں دینے کی روایت موجود ہے ۔ خیبر پختون خواہ، سندھ کے وزرائے اعلی کے بھی اشتہارات دیئے گئے، شہباز شریف نے قانون و قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ اشتہارات کا مقصد کسی کو فائدہ دینا نہیں تھا، شہباز شریف نے 55 لاکھ روپے کا نیا چیک قبول کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرانا چیک زائد المیعاد ہو چکا اس لیے نیا چیک پیش کیا گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے