چھ ہزار غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ملک بھر کی ہاوسنگ سوسائٹیز کے فرانزک آڈٹ کی پیش رفت رپورٹ دو ہفتوں میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 6 ہزار غیر رجسٹرڈ سوسائٹیز کام کر رہی ہیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ عدالت میں کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اتھارٹی کے رجسٹرار پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اتھارٹی کے آفس میں آگ لگوائی گئی ہے، لاہور میں جس جگہ ہریالی تھی وہاں ہاوسنگ سوسائیٹیاں بنا دی گئیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری صاحب، سوسائٹیوں سے متعلق اب تک کیا کچھ کیا ہے آپ نے؟ سوسائٹیوں کو فائدہ دینے کیلیے اربوں روپے کا نقصان کر رہے ہیں ۔

آپریٹو ہاؤسنگ اتھارٹی کے سیکریٹری نے کہا کہ سوسائیٹیز بائی لاز کے تحت کام کرتی ہیں، عدالت نئی بننے والی ہاوسنگ سوسائٹیوں پر پابندی لگا دے، جلد ہی حکومت کو ایکٹ میں ترامیم تجوایز کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بائی لاز کے ذریعے فری ہینڈ دے دیا جاتا ہے، غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور وہ بے چارے عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں، عدالت کیوں پابندی لگائے آپ خود یا حکومت پابندی لگائے، ایچی سن کالج ہاوسنگ سوسائٹی نے بھی تباہی مچائی ہوئی ہے ۔

عدالت میں ایک وکیل نے کہا کہ گوادر کی ہاوسنگ سوسائٹی مہنگی ترین سوسائیٹی ہے، گوادر سوسائٹی سمندر کے کنارے غریب لوگوں کی آبادی پر قائم ہے، پچاس لاکھ سے آٹھ کروڑ تک پلاٹس کی قیمتیں ہیں ۔ عدالت نے گوادر ہاوسنگ سوسائٹی پر وفاق اور بلوچستان حکومت سے جواب طلب کر لیا ۔

ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ آڈٹ کا عمل جاری ہے، بتایا گیا کہ سوسائٹیز کا ریکارڈ متاثر ہوا جس کو دوبارہ مرتب کیا جا رہا ہے ۔ عدالت نے ایف آئی اے سے دو ہفتوں میں فرانزک آڈٹ پر پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

ایف ائی اے کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 6000 غیر قانونی اور جعلی ھائوسنگ سوسائٹیاں قائم ہیں، جن میں سے وفاقی دارالحکومت میں 12، پنجاب میں 4680 غیر رجسٹرڈ اور جعلی سوسائٹیاں قائم ہیں، سندھ میں 967، پختونخوا میں 120 اور بلوچستان میں 221 ہاؤسنگ سوسائٹیاں بغیر رجسٹرڈ ہوئے کام کررہی ہیں۔

غیر رجسٹرڈ سوسائٹیاں واپڈا کے زرعی کنیکشن پر بجلی کی سپلائی لے رہی ہیں ۔ غیر رجسٹرڈ سوسائٹیاں بل بورڈ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مارکیٹنگ کرتی ہیں، غیر رجسٹرڈ 6000 ہاوسنگ سوسائٹیوں کو متعلقہ ڈی سی او کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسوس ہے کہ غیر رجسٹرڈ سوسائٹیاں پر صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور ڈی سی او کوئی مدد نہیں کر رہے جبکہ اکثر غیر رجسٹرڈ سوسائٹیوں نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے