ملی بھگت

فیاض محمود

کوئی ایک سال گزر چکا، روزانہ کی بنیاد پر اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہاں کبھی سابق وزرائے اعظم کے کیسز کی آواز لگتی ہے تو کبھی موجودہ صدر پاکستان اور وزیراعظم کے کیس کی شنوائی ہوتی ہے۔ ان دنوں نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف احتساب عدالت میں کرپشن کیسز کا سامنا کررہے ہیں۔ اسی کمپلیکس میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت میں صدر پاکستان عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کیخلاف پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کا ٹرائل بھی چل رہا ہے۔ یہ کیسز دوہزار چودہ کے دھرنوں میں سرکاری ٹی وی اور پالیمنٹ پر حملوں کے الزام میں لیگی حکومت نے قائم کیے تھے۔ کیسز چیونٹی کی چال چلتے رہے۔ عدالتوں نے عدم پیروی پر پی ٹی آئی کی قیادت کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ تاہم حکومت ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی بلکہ پولیس کی سیکورٹی میں عمران خان پانامہ کیس کی پیروی کے لیے سپریم کورٹ میں موجود رہتے تھے۔ اس وقت ان کا اسٹیٹس اشتہاری ملزم کا تھا مگر کسی نے انہیں گرفتار کرنے کی ہمت نہ کی۔ انتخابات کا وقت قریب آیا توعمران خان کے وکیل بابر اعوان درخواست ضمانت لے کر انسداد دہشتگردی کی عدالت آن پہنچے۔

استغاثہ نے بھرپور تیاری سے کیسز کی پیروی کی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ استغاثہ کے دلائل کے بعد کیس اتنا مضبوط دکھائی دیا کہ لیگی رہنما دانیال عزیز اس امید سے عدالت آن پہنچے کہ عمران خان کی گرفتاری اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ بابراعوان احاطہ عدالت میں موجود رہے۔ موجودہ وفاقی وزیر کے بھائی نے بابر اعوان کے دلائل پرکچھ اس انداز میں تبصرہ کیا ۔بابر اعوان نے خان صاحب نو مروا دیتا۔ خیر اس دن بابر اعوان سرخروح ہوکرنکلے۔ ایس ایس پی تشدد کیس میں بابر اعوان نے عمران خان کی بریت کی درخواست دائر کی۔ سرکاری وکیل شفقات چوہدری نے انتہائی موثر انداز میں کیس پیش کیا اور دلائل میں کہا اتنا عرصہ جان بوجھ کر مفرور رہنے پر قانون کے مطابق ملزم کو مزید سزا بھی دی جائے۔ استغاثہ بھرپور دلائل کے باوجود مقدمہ ہار گیا مگر انسداد دہشتگردی کے فیصلے کیخلاف اپیل لیکر ہائیکورٹ پہنچ گئی۔ یہاں تک استغاثہ اپنے کیسز کا بھرپور دفاع کرتی رہی لیکن پھر وقت نے کروٹ لی۔ 25 جولائی کا سورج پی ٹی آئی کی فتح کی نوید لے کر ابھرا۔عمران خان اپوزیشن سے حکمران بن گئے۔ وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی پہلی سماعت ہوئی۔ ہم بھی اس امید کیساتھ صبح صبح عدالت پہنچے کہ عمران خان ضرور پیش ہوں گے کیونکہ وہ ہمیشہ اداروں کو احترام دینے کی بات کرتے رہے ہیں۔ ہم عدالت پہنچے لیکن نہ تو عمران خان آئے نہ انکی کابینہ کے اہم اراکین جو مقدمات میں نامزد ملزم ہیں۔ ملزمان کی حاضری سے استثنی کی درخواستیں ضرور آگئیں۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے مستقل حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی اور کہا سر یہ حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔ جس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے دلائل دینے کو کہا لیکن اس وقت ہم سب حیران رہ گئے جب انہوں نے دلائل دینے کی بجائے یہ کہہ کر بات ہی ختم کردی کہ اگر عدالت چاہے تو استثنی کی درخواست منظور کرلے کیونکہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جس پر فاضل جج نے کہا استغاثہ کو اعتراض نہیں اس لیے عمران خان کی مستقل حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرتی ہے۔ عدالت نے صدر مملکت عارف علوی کو آئین کے آرٹیکل 248 کا فائدہ دیتے ہوئے فوجداری مقدمے سے استثنیٰ دے دیا۔ اور کہا جب تک وہ صدر پاکستان ہیں انہیں صدارتی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ میں نےاستثنیٰ کی خبر دی تو صدر مملکت نے ٹویٹ کرکے واضح کیا کہ انہوں نے استثنیٰ نہیں مانگا بلکہ وہ بریت کی درخواست دائر کریں گے۔ اگلی سماعت پر صدر عارف علوی نے بریت کی درخواست دائر کردی۔ جس پر عدالت نے پراسیکوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست بحث کے لیے مقرر کردی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت پہنچے اور وزیراعظم کی بریت کی درخواست پر دلائل دینے کے لیے اجازت مانگی۔ جس پر عدالت نے کہا صدر پاکستان کی بریت کی درخواست بھی آگئی ہے اس لیے ایک دن ہی دلائل رکھ لیتے ہیں۔ بابر اعوان نے اپنے بائیں طرف پراسیکوشن کی طرف دیکھا تو کوئی وکیل بھی موجود نہ تھا۔ بابر اعوان عدالت سے مخاطب ہوئے اور پراسیکوشن کی طرف اشارہ کرکے کہا وقت وقت کی بات ہے کبھی یہ (سرکاری وکیل) ہمارے آنے سے پہلے یہاں کھڑتے ہوئے تھے مگر آج نظر نہیں آرہے۔ ان کے اس جملے پر قہقہہ لگا اور سماعت ملتوی ہوگئی۔ بابر اعوان چلے گئے مگر جاتے جاتے بڑی بات کرگئے اور کیسز کا مستقبل بتا گئے۔ مستقل استثنیٰ کی درخواست پر استغاثہ نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ بریت کی درخواست آئی تو بابر اعوان کو سرکاری وکیل نظر نہ آیا۔ اگر سرکار نے یہی رویہ رکھا تو عدالت بریت کی درخواست منظور کرنے پر مجبور ہوگی۔ مگر استغاثہ کی طرف سرد مہری ثابت کررہی ہے کہ نئی حکومت اداروں پر مکمل کنٹرول حاصل کرچکی ہے۔ پی ٹی آئی ان کیسز کو سیاسی قرار دیتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اب معاملہ عدالت میں ہے۔ عمران خان کو چاہیے وہ بھرپور طریقے سے کیس کا سامنا کریں اور اس کو سیاسی کیس ثابت کریں۔ استغاثہ بھی اپنا مقدمہ ٹھیک اسی انداز میں پیش کرے جس طرح گزشتہ حکومت میں کررہی تھی تو پھر بریت ہونے کی صورت میں سوال نہیں اٹھیں گے۔ ورنہ لوگ اس کو حکومت اور استغاثہ کی ملی بھگت قرار دیکر عمر بھر بریت پر انگلیاں اٹھاتے رہیں گے۔

متعلقہ مضامین