ججوں کے خلاف ریفرنس کی معلومات کا مقدمہ

سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر ریفرنسز کی تفصیلات اور ان کے جلد نمٹانے کیلئے دائر کی گئی درخواست کی سماعت دو سال بعد ہوئی ہے ۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے خلاف یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت ممتاز مصطفی نے سنہ 2016 سے دائر کر رکھی ہے ۔

سپریم کورٹ میں اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ سے پوچھا کہ یہ کیا درخواست ہے؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے جواب دیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف زیر التوا ریفرنسز اور انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کیلئے درخواست دائر کی ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس طرح کی درخواست دائر کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا، ہم یہ درخواست مسترد کرتے ہیں، ہم ججوں کے خلاف زیر التوا ریفرنسز کی تفصیلات کسی کو دینے کے پابند نہیں ۔ وکیل اکرام شیخ نے کہا کہ میرا تجربہ ہے آپ سب کو تحمل سے سنتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں ہمیں یہ محسوس ہو کوئی شرارت نہیں ہے وہاں ہم تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ میں نے کوئی شرارت نہیں کی، میں نے ہمیشہ مقدمات میں آپ کی معاونت کی، میرے مقدمات کسی اور بنچ میں لگا دیئے جائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تاکہ آپ کو پیسے کمانے کا موقع مل جائے اور لوگ اپنے مقدمات میں تاخیر کیلئے آپ کو وکیل کرنے لگیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے آپ پر اعتبار ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ہم اس مقدمے کو موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد سماعت کیلئے مقرر کرتے ہیں ۔ اس کے بعد کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے