ہائیکورٹ کے جج کی معلومات نہ مل سکیں

اسلاام آباد ہائیکورٹ نے اس درخواست کو خارج کر دیا ہے جس میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کے خلاف مبینہ طور پر درج فوجداری مقدمے کی معلومات فراہم کرنے کی استدعا کی گئی تھی ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسڑار آفس نے ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر اعتراضات لگائے تھے جس کے خلاف وکیل نے اپیل کی تھی ۔ جسٹس عامر فاروق نے اپیل سننے کے بعد عائد اعتراضات کو برقرار رکھا اور درخواست خارج کر دی ۔

درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ۱۹۸۲ ایک معاملے میں ملوث ہونے کی معلومات فراہم کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار، سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار اور پاکستان بار کونسل کو ہدایات جاری کی جائیں ۔

جسٹس عامر فاروق نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ درخواست گزار ۱۶ اگست ۱۹۸۲ کو لاڑکانہ کے پولیس اسٹیشن میں درج کئے گئے مقدمے کی معلومات کی فراہمی کیلئے مدعا علیہان کو ہدایات جاری کرانا چاہتا ہے، یہ معاملہ اس عدالت کی حدود سے باہر ہے ۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل ۱۹۹ کی شق ۵ کے تحت ہائیکورٹ کو ہدایات جاری کرنے کی ممانعت ہے ۔

درخواست گزار انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف مبینہ طور پر پاکستان کے جھنڈے کو جلانے کا مقدمہ ۱۹۸۲ میں درج کیا گیا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس الزام میں ان کو دس ماہ قید کی سزا بھی ضیا دور میں سنائی گئی تھی ۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے