پروین رحمان قتل کیس کی سماعت

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے سوشل ورکر پروین رحمان قتل کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کی حرکتیں ہمیں سمجھ آ رہی ہیں، پانچ سال سے جاری کیس میں کوئی پیش رفت نہیں، کیوں نہ جے آئی ٹی بنا کر تفتیش کر الی جائے ۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی عدالتی بنچ نے پروین رحمان کے قتل پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ ملزمان کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی آ چکی ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق درخواست گزار عقیلہ اسماعیل کے وکیل نے استدعا کی کہ مقدمے میں درست تفتیش کیلئے وفاقی تفتیشی ادارے یا سابق جج کی سربراہی میں تحقیقات کرائی جائیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب کچھ ٹھیک بتایا جا رہا ہے، سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کی حرکتیں ہمیں سمجھ آ رہی ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پانچ سال سے جاری کیس میں کوئی پیش رفت نہیں، کیوں نہ جے آئی ٹی بنا کر تفتیش کرالی جائے ۔

عدالت نے درخواست گزار عقیلہ اسماعیل کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ۔ ڈی آئی جی کراچی ویسٹ نے تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ حکم پر عمل نہ ہوا تو کسی ذمہ دار کو نہیں چھوڑیں گے، قانون کے دائرے میں رہ کر بہت کچھ کر سکتے ہیں، اگر حکم عدولی ہوئی تو کسی کو معافی نہیں ملے گی ۔ سپریم کورٹ نے سوشل ورکر پروین رحمن قتل کیس کی سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے