اورنج لائن میٹرو، نیب اور کھانچے

سپریم کورٹ نے پنجاب میگا پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر پر لئے گئے ازخود نوٹس میں قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی ہے کہ لاہور اورنج لائن منصوبے کے خلاف زیر التوا انکوائری کی تفصیلات فراہم کرے ۔ عدالت نے پراجیکٹ سے منسلک کمپنیوں اور شراکت داروں کی تجاویز کی منظوری کیلئے پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو تین دن کی مہلت دیدی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ میٹرو پراجکٹس دی گئی ٹائم لائن میں مکمل ہوں، مجھے لاہور کے شہریوں کے مسائل کا اندازہ ہے، گاڑیاں، رکشے اور موٹر سائیکل تک والے وہاں سے نہیں گزر سکتے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدے داروں نے ملاقات کر کے یہ مسئلہ حل کرنے کو کہا تھا، کہا گیا کہ خدا کا واسطہ ہے لاہور کے لوگوں کو اس مصیبت سے بچائیں ۔

ایک تعمیراتی کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر ادارے تنگ کر رہے ہیں، جو کام کر لیا ہے اس کی ادائیگی کی جائے، عدالت کی تکریم کے لیے کام مکمل کرنے کا عزم کیا ہے ۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جو کمپنیاں کام کر رہی ہیں انہیں ہراساں کرنے کے بجائے حوصلہ افزائی کی جائے، جن اداروں نے انکوائری کرنی ہے کام مکمل کرنے کے بعد کر لیں ہم تیار ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق تعمیراتی کمپنی کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پراجیکٹ پر 13 کلومیٹر کا برج تعمیر کیا 3 سے 4 ارب اضافی لگائے، ہم نے دیے گئے نقشے کے مطابق کام کیا پھر کہا جاتا ہے کہ تعمیر میں غلطی ہوگئی ۔

حبیب کنسٹرکشن کے وکیل شاہد حامد نے بتاہا کہ حبیب کنسٹرکشن اپنا کام مکمل کر چکی ہے ٹریک بھی لگ گیا ہے، ادائیگیاں نہیں ہوئیں ہیں اور نیب بھی خوفزدہ کر رہا ہے، وفاقی کابینہ نے بھی ان میگا پراجکٹس کے آڈٹ کا کہا ہے، بہتر ہے کہ عدالت کمیشن بنا دے، میگا پراجکٹس سمیت ملتان میٹرو کا بھی کمیشن جائزہ لے لے ۔  چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کمیشن کیوں بنائیں، ہم چاہتے ہیں کہ کام وقت پر مکمل ہو، ملتان میٹرو پروجیکٹ کو چھوڑیں، وہ معاملہ جب سامنے آیا دیکھ لیں گے، ہو سکتا ہے ملتان میٹرو پر از خود نوٹس بھی لے لیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کو بلوا کر ان کا موقف جان لیتے ہیں، نیب کو بلا کر کہہ دیتے ہیں کہ وہ رخنہ نہ ڈالے، اگر آپ نے کھانچے لگائے ہیں تو پھر کاروائی ضرور ہوگی، کھانچوں کا تحفظ نہیں کریں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی نے کرپشن کی ہے تو نیب ضرور کاروائی کرے گا ۔

عدالت نے تمام کمپنیوں اور فریقین کو مل بیٹھ کر قابل قبول حل دینے کی ہدایت کی ۔ وقفے کے بعد اورنج لائن منصوبے کے فوکل پرسن سبطین علیم نے بتایا کہ اورنج ٹرین پراجیکٹ سے منسلک تمام کمپنیوں اور شراکت داروں نے عدالتی حکم پر تجاویز دی ہیں، سیکریٹری ٹرانسپورٹ پنجاب کی عدم موجودگی کے باعث تجاویز کو منظور نہیں کیا جا سکا، منظوری کے لیے 4 دن کا وقت دے دیں ۔ عدالت نے پیش کردہ تجاویز کی منظور کے لیے 3 دن کا وقت دے دیا ۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایل ڈی اے اور نیسپاک کانٹریکٹرز اور ملازمین کے بقایا جات کا تخمینہ لگا کر ادائیگی کے لیے اقدامات کرے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے کہا کہ پراجیکٹ فوکل پرسن رقوم کی ادائیگیوں کے معاملے میں تصدیقی عمل کرے ۔ عدالت نے میٹرو اورنج ٹرین کے خلاف جاری نیب انکوائری کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 روز تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے