کراچی میں سرکاری مکانات خالی کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے کراچی میں سرکاری مکانات غیر قانونی قابضین سے خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ عدالت نے مکان خالی کرانے کیلئے ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس کو وزارت ہاؤسنگ کی معاونت کی ہدایت کی ہے جبکہ اے جی پی آر سے کہا ہے کہ قابضین کے ذمے واجب الادا رقم وصول کرے ۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ عدالت کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کراچی میں 4268 سرکاری گھروں پر ریٹائرڈ ملازمین قابض ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹٰی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ اسلام اباد میں کتنی غیر قانونی رہائش گاہیں تھیں؟۔ کتنے گھر خالی کروا لیے۔ ؟ وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری نے بتایا کہ اسلام اباد میں 563 غیر قانونی قبضے تھے، قبضے والے 386 سرکاری گھر خالی کروا لیے ہیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ باقی گھروں کو کب تک خالی کروا لیا جائے گا۔؟ سیکرٹری نے جواب دیا کہ آپریشن جاری ہے 7-8 گھر روزانہ کی بنیاد پر خالی کروا رہے ہیں، 49 کیسز اب بھی ہائی کورٹ میں زیر التواء دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان مقدمات کی فہرست سپریم کورٹ کو فراہم کریں، حکم دیں گے کہ ان مقدمات کو مخصوص مدت میں ختم کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شاید آج میں گن کلب کا دورہ بھی کروں، نعیم بخاری صاحب شاید آپ اس کلب کے ممبر ہیں؟ کیا کھانا وہیں کھلائیں گے ۔
نعیم بخاری نے کہا کہ جی بالکل کھانا کھلاؤں گا اور پیسے دے کر کھلاؤں گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گن کلب کی شاندار عمارت تھی، گن کلب کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔ بعد ازاں عدالت نے ہائیکورٹ کو مکانات قبضوں کے تمام زیر التواء مقدمات پندرہ دن میں نمٹانے کیلئے کہا ۔ عدالت نے کہا کہ متعقلہ ہائی کورٹس مقدمات نمٹا کر رپورٹ پیش کریں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تین اشاریہ پانچ ارب روپے کراچی میں وفاقی گھروں پر واجبات ادا ہیں، کراچی میں ایک مکمل مافیا ہے جس نے وفاقی کے گھروں پر قبضہ کیا ہے، سیکورٹی کے بغیر 4268گھروں کو غیر قانونی قابضین سے خالی نہیں کرا سکتے ۔عدالت نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ غیر قانونی گھروں کا قبضہ ختم کرنے کیلئے اسٹیٹ آفس کو سیکورٹی فراہم کرے ۔

عدالت نے اے جی پی آر کو قابضین کی پنشن، تنخواہ سے مکانوں کے کرائے کی مد میں واجبات وصول کرنے کا حکم بھی دیا ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے کراچی میں مکانات فوری خالی کرا کے رپورٹ دی جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے