بحریہ ڈوبا تو پاکستان ڈوب جائے گا

سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کراچی نظر ثانی درخواست کی سماعت کے دوران ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن ڈوبا تو پاکستان ڈوب جائے گا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی پانچ رکنی لارجر بنچ نے نظرثانی درخواست کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے ملک ریاض سے کہا کہ ایک ہزار بلین روپے دے دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض صاحب، آپ کی ورتھ تین ہزار بلین روپے ہے ۔

ملک ریاض نے کہا کہ میری ورتھ سو بلین یا پچاس بلین بھی نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کتنی مرتبہ پانی کی بڑی لائنوں کو بحریہ ٹاؤن کیلئے تبدیل کیا گیا، ڈیمز کیلئے پندرہ سو بلین دے دیں آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ملک ریاض نے کہا کہ کل اثاثوں کا پچیس فیصد دینے کیلئے تیار ہوں ۔ وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن ڈوبا تو پاکستان ڈوب جائے گا ۔

چیف جسٹس نے اس بات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اللہ محافظ ہے، پاکستان کی عدالتیں اس کی محافظ ہیں، میری عدالت میں پاکستان ڈوبنے کی بات نہ کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے پتہ چلا کہ آپ سارا دن بحریہ ٹاؤن کا جہاز لے کر پھرتے رہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے بحریہ ٹاون اور ملک ریاض کے وکیلوں سے کہا کہ آپ نے بحریہ کے جہاز کو ٹیکسی بنا رکھا ہے ۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن رقم دینے کو تیار ہے، مزید اقدامات کے لۓ بھی تیار ہیں، بحریہ ٹاؤن کے پاس ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 18000 کنال زمین ہے ۔ چیف جسٹس نے سابق گورنر پنجاب اور ملک ریاض کے وکیل خواجہ طارق رحیم سے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں، پہلے علی ظفر کو سن لیتے ہیں ۔

علی ظفر نے کہا کہ عدالت ہرجانہ طے کر دے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں عمل درآمد بنچ بنانے کا کہا تھا، ہم عملدرآمد بنچ ہیں، اگر ہرجانہ نہیں دے سکتے تو میرٹ پر بحث کریں، جو 1.5 ارب لئے گئے وہ حتمی نہیں تھے ۔

ملک ریاض نے بات کرنے کی اجازت مانگی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پر جرمانہ کر دیں، ہزار بلین دے دیں ۔ علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹائون نظرثانی کیس میں ہم نے تجاویز جمع کرا دی ہیں جبکہ راولپنڈی کی حد تک ھم پانچ ارب روپیہ جمع کرا رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ رقم جمع کرانے کا عدالتی حکم تھا، آپ نے رضاکارانہ طور پر رقم تو جمع نہیں کرائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر اپ دلائل دیں ھم کیس کو میرٹ پر سنیں گے، ھم نے قیمت کاتعین کرلیا، شکر کرو کہ ایک ھزار ارب کی رقم ڈالر میں نہیں مانگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بے شک ایک ھزار ارب روپیہ نہ دیں، عمل در آمد بنچ تعین کر دے گا، اگر ایک ھزار ارب دیں گے تو ٹھیک نہیں دیتے تو ھم کیس سن لیتے ہیں، آپ نظر ثانی اپیل واپس لے لیں، عمل در آمد بنچ بنا دیتے ہیں ۔ ملک ریاض نے کہا کہ 427 ملین کی کل فروخت ہے۔

ایک ھزار ارب کہاں سے آئیگا۔ ملک ریاض

اگر جھوٹ بولوں تو سارے بچے مر جائیں۔ ملک ریاض

میں ھر طرح کی یقین دہانی دلاتا ہوں کہ میری اوقات 100 ارب تو کیا 50 ارب کی بھی نہیں۔ ملک ریاض۔۔

میں پاکستان کی ترقی چاھتا ہوں۔ بحریہ ٹائون میں کئی خاندان بستے ہیں۔ ملک ریاض

بحریہ ٹائون میں لونگ سٹینڈرڈ کا تعین عدالت خود جاکر کر سکتی ہے۔ ملک ریاض

ایک کروڑ درخ دوبئی اور تھائی لینڈ سے منگوا کرلگائے۔ ملک ریاض

ھم نے غریب لوگوں کو گھر اور سستے رقم میں پلاٹ دیئے اور کئی مساجد بنوائیں۔ ملک ریاض

ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو 4 ارب رقم جمع کرائی ہے۔ ملک ریاض

بحریہ ٹائون نے قانون کے مطابق معاھدہ کیا ہے۔۔ ملک ریاض

اراضی کا 60 فیصد حصہ سکول۔ پارکوں۔ اور مساجد کے لئے مختص ہے ملک ریاض

بحریہ نے بنجر زمین کو رھنے کے قابل بنایا۔ بحریہ ٹاؤن کی درخواست پر عملدرآمد بنچ کو روک دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس

ہم یہاں تقریریں سننے کے لیے نہیں بیٹھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن

سارے وکلاء بیٹھ جائیں جس کی باری ہے وہی دلائل دے۔ چیف جسٹس

اراضی تبادلے میں کوئی فراڈ نہیں ہوا۔ علی ظفر

سب کچھ قانون کےمطابق ہوا۔ علی ظفر

سندھ کابینہ نے منظوری دی تھی۔ علی ظفر

سپریم کورٹ کے فیصلے میں ججز کا اتفاق نہیں۔ علی ظفر

عدالت نے حقائق کو نظر انداز کیا۔ علی ظفر

ایم ڈی اے کا ماسٹر پلان موجود تھا۔ علی ظفر

لیکن عدالت نے اس کو نظر انداز کیا۔ علی ظفر

نیب ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اراضی کے بارے میں دیکھ لیتی ہے۔ چیف جسٹس

اگر کسی کے خلاف ریفرنس بنا تو دیکھ لیں گے۔ چیف جسٹس

ہم کیوں نا معاملہ نیب کو بھیج دیں۔ چیف جسٹس

نیب کو کہہ دیتے ہیں آزادنہ تحقیقات کرے۔ چیف جسٹس

اس کا ریفرنس میرٹ پر ہو گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن

نیب کو پہلے بھی حکم دیا تھا اور خود سپریم کورٹ نے روکا تھا۔ علی ظفر

نیب پہلے بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ چیف جسٹس

نیب کو حتمی نتیجے پر پہنچنے کا کہا ہے۔ چیف جسٹس

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو نیب ریفرنس دائر کرے۔ جسٹس اعجاز الاحسن

نیب تحقیقات کرے اور حتمی نتیجے پر پہنچے۔ چیف جسٹس

ہر جگہ پر جج نے لفظ بادی النظر لکھا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن

کیا واقعی یہ کیس نیب کو جانا چاہیے۔ خواجہ طارق

سرکاری افسران جنہوں نے بے ضابطگی کی ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن

پہلے عملدرآمد بنچ سن لے پھر نیب کا فیصلہ کیا جائے۔ خواجہ طارق

نیب کو تو تین ماہ کا حکم دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس

نیب اپنا کام کرتا رہے گا۔ چیف جسٹس

تحقیقات تو ہونی چاہیے سزا ہونا یا نا ہونا بعد کا معاملہ ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ

عملدرآمد بنچ حکم سے آگے نہیں جائے گا۔ جسٹس آصف کھوسہ

جب تک عملدرآمد بنچ کی رپورٹ نہیں آتی تب تک نیب کاروائی نا کرے۔ زاہد بخاری
جناب نے بھت اچھی کہانی سنائی۔ چہف جسٹس کا ملک ریاض سے مکالمہ

پانی کے کنیکشن کے لئے حکومت کو 36 کروڑ سے زائد اور بجلی کے لئے 17 کروڑ رقم دی۔ ملک ریاض

ایک ڈیم 1500 ارب کا بنتا ہے یہ اپ بنا دیں۔ چیف جسٹس

میں اپنے تمام اثاثوں کا 25 فیصد ڈیم کے لئے دونگا۔ ملک ریاض

دوران سماعت چند خواتین روسٹرم پر آگئیں۔ بات کرنا چاھی۔

عدالت نے ان کو بولنے سے روک دیا۔

ھمیں قومی مفاد عزیز ہے۔ چیف جسٹس

آپ کے وکیل موجود ہیں ان کو سن لیں گے۔ چیف جسٹس

عملدرآمد بنچ قیمتوں کا تعین کرے گا۔ چیف جسٹس

معاملہ عملدرآمد بنچ کو بھیج رہے ہیں۔ چیف جسٹس

ایک جج کی فائنڈنگ دو سے اوپر نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس

یہ نظر ثانی درخواست ہے۔ چیف جسٹس

لیز اور فروخت میں فرق ہے۔ چیف جسٹس

لیز پردی گئی اراضی فروخت نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر بحریہ ٹاؤن کے رہائشی کا عدالت میں شور شرابہ۔

ہمیں سن لیا جائے۔ رہائشی بحریہ ٹاؤن

ہماری ساری کاروائی ڈوب جائے گی۔ متاثرہ شخص

اگر عدالت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو ہمیں مدنظر رکھے۔ متاثرہ شخص

ہم نے بیرون ملک سے کما کر بحریہ ٹاؤن میں سرمایا کاری کی ہے۔ متاثرہ شخص

ہمیں ڈر ہے کہ ہماری ساری سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ متاثرہ شخص

بحریہ ٹاؤن کراچی کی نسبت بہت محفوظ ہے۔ متاثرہ شخص

ہمیں بحریہ ٹاؤن میں تحفظ ملتا ہے۔ متاثرہ شخص

اگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو کیا ہم ان کو درست نہ کریں؟ چیف جسٹس

ریاست تو ماں باپ جیسے ہوتی ہے، ہمیں ریاست تحفظ دے۔ متاثرین

ہماری سرمایہ کاری کو ڈوبنے سے بچایا جائے۔ متاثرین

متاثرین عدالت میں رو پڑے

ہمارے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے۔ متاثرین

اوپر اللّٰہ کی عدالت ہے اور نیچے یہ عدالت۔ متاثرین

ہمیں اللّٰہ اور اس عدالت پر یقین ہے۔ متاثرین

کیا ہم متاثرین کی وجہ سے اب بحریہ ٹاؤن کے خلاف کاروائی نہ کریں؟ چیف جسٹس

خدانخواستہ اگر بحریہ ٹاؤن نے فراڈ کیا ہے تو اسے چھوڑ دیں؟ چیف جسٹس

ہم بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کی جانب سے ڈیم فنڈ کے لیے عطیات بھی لائے ہیں۔ متاثرین

ڈیم بھی پاکستان کے لیے ہے۔ لیکن ہم یہاں غیر قانونی اقدامات کو دیکھ رہے ہیں۔ چیف جسٹس

اہم سوال یہ ہے کہ کیا قانون کے مطابق ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے زمین بحریہ کو منتقل کی، ملک ریاض ہمارے لیے عام سائل کی طرح ہیں، ملک ریاض آپ بار بار آٹھ کر نہ آیا کریں، آپ عدالت کو متاثر نہیں کرسکتے، چیف جسٹس کا ملک ریاض سے مکالمہ

سو ارب روپے جمع کرا دیں، بحریہ ٹاؤن کے انتظامی امور چلانے کیلئے ہم ملک کے ماہر لوگ مقرر کر دیتے ہیں، چیف جسٹس

ہم نے آرٹیکل 184 کی شق تین میں ترمیم کی لیکن ہم نہیں کراسکے، سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کرکے آرٹیکل 184 تین کیخلاف اپیل کا حق فراہم کردے، اعتزاز احسن

اگر آپ اپنی طاقت سے آرٹیکل 184 کی شق تین میں ترمیم کراسکتے ہیں تو اسے پارلیمنٹ لے جائیں، چیف جسٹس

لوگ آرٹیکل 184 کے دائرہ اختیار کے استعمال پر نالاں ہیں، اعتزاز احسن

جن کے کھاتے کھلتے ہیں انھوں نے نالاں ہی ہونا ہے، چیف جسٹس

ہم نیب کو کہتے ہیں وہ کارروائی جاری رکھے، آپ کے جتنے سنگین عزائم ہیں مجھے دفاع کیلئے مکمل حق ملنا چاہیے، اعتزاز احسن

آپ نے جس عزائم لفظ کا زکر کیا یہ عزم والا ہوگا، سندھ حکومت کی پارٹرشپ تھی، چیف جسٹس

راتوں رات نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، سارا بنچ نوٹیفکیشن کے اجراء پر حیران تھا، جسٹس اعجاز الااحسن

سپریم کورٹ نے سماعت گیارہ کتوبر تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے