آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم، اسکینڈل کیسے بنا؟

شہباز شریف کی وزارت اعلی میں پنجاب حکومت نے سنہ 2013 کے اوائل میں کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی اسکیم شروع کی ۔ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم نامی اس منصوبے کے تحت پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ ہزار چار سو گھر تعمیر کیے جانے تھے ۔ اس رہائشی منصوبے کیلئے پنجاب حکومت نے کل تین ہزار کنال اراضی مختص کی جس میں سے ایک ہزار کنال لینڈ ڈیویلپرز کو دی گئی ۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے نومبر 2017 میں آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کی تحقیقات شروع کیں ۔ نیب نے انکوائری متاثرین کی متعدد شکایت پر شروع کی ۔ شکایت یہ تھی کہ تین ہزار کنال کی سرکاری اراضی کا معاہدہ غیر قانونی ہے ۔

نیب کو یہ شکایت بھی موصول ہوئی کہ پنجاب حکومت نے آشیانہ اسکیم کے لیے کامیاب بولی لگانے والی کمپنی سے معاہدہ ختم کر کے دوسری کمپنی کو دے دیا تھا ۔ قومی احتساب بیورو نے جنوری میں شہباز شریف سے اس بابت پوچھ گچھ کی تھی ۔

بیورو کریٹس فواد حسن فواد اور احد چیمہ کو بھی اسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا ۔ دونوں افسران نیب کی تفتیش کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ فواد حسن فواد اس معاہدے کے وقت پنجاب میں سیکریٹری عملدرآمد کمیشن جبکہ احد چیمہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ تھے ۔

اسی اسکینڈل میں نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق سے بھی پوچھ گچھ کی ہے اور حکومت کے کچھ وزرا یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کو بھی گرفتار کیا جائے گا ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اسکیم کا ٹھیکہ سعد رفیق کے بھائی کی کمپنی نے فرنٹ مین کے ذریعے لیا ۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے فواد حسن فواد کو اس الزام پر حراست میں لیا کہ انھوں نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ جان بوجھ کر چھپائی تھی جس میں تحقیق کی گئی تھی کہ آشیانہ ہاؤسنگ کے تعمیر کے سلسلے میں دیا گیا اور معاہدہ کامیاب بولی لگانے والی کمپنی کے بجائے دوسری کمپنی کو کیوں دیا گیا تھا ۔

احد چیمہ پر نیب کا الزام ہے کہ انھوں نے آشیانہ ہاؤسنگ کی تعمیر کے لیے کامیاب بولی لگانے والی کمپنی چوہدی لطیف اینڈ سنز کو دیا گیا ٹھیکہ منسوخ کر کے  لاہور کاسا ڈیویلپرز نامی کمپنی کو دیا جو غیر قانونی تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے