آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل پر وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ اپیل کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے کی ۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اس کیس کے حوالے سے میڈیا کسی قسم کے تبصرے یا تجزیہ فیصلہ آنے تک نہیں ہوگا ۔ اپیل کی سماعت پونے تین گھنٹے تک جاری رہی اور اس دوران دو گھنٹے آسیہ بی بی کے وکیل نے دلائل دیئے جبکہ چالیس منٹ شکایت کنندہ کے وکیل نے اپنا مؤقف بتایا ۔ سرکاری استغاثہ کے وکیل نے صرف پانچ منٹ میں اپنی گزارشات پیش کیں ۔

عدالت کو وکیل سیف الملوک نے بتایا کہ آسیہ بی بی کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے اور اگلے برس سنہ 2010 میں انھیں اس مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی ۔ وکیل نے کہا کہ سات گواہوں کے بیانات استغاثہ کی جانب سے پیش کئے گئے جن میں سے کسی کا بیان دوسرے سے نہیں ملتا ۔

وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر پانچ دن کی تاخیر سے درج کرانے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ شکایت کنندہ خود تحقیق کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فالسے کے کھیت میں جس وقت آسیہ بی بی اور عاصمہ و عافیہ کی مذہب پر بحث ہوئی ۔ وکیل کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ دونوں بہنیں ہیں اور انہوں نے آسیہ کے ہاتھوں پانی پینے سے انکار کیا تھا ۔ وکیل نے ٹرائل کورٹ میں دیا گیا آسیہ بی بی کا بیان بھی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں خواتین نے جھوٹی کہانی گھڑی ہے اور قاری سلام کو شامل کیا جس کی بیوی نے ان دونوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھی ۔ آسیہ بی بی کے بیان کے مطابق وہ پیغمبر اسلام کی بہت عزت کرتی ہیں اور انھوں نے کوئی بھی توہین آمیز کلمات نہیں ادا کیے ۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ اپیل دو سال بعد سماعت کیلئے مقرر کر کے سنی ۔ اکتوبر 2016 میں مجرمہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں آخری دفعہ سنی گئی تھی لیکن اُس تین رکنی بینچ کے ممبر جج اقبال حمید الرحمن نے کہا کہ کیونکہ وہ ماضی میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور آسیہ بی بی کا مقدمہ بھی اسی سے منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے ۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت جولائی 2015 میں کی تھی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو ان کے پولیس گارڈ نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کر کے ان کے حق میں بیان دینے پر قتل کر دیا تھا ۔

 

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے