چودھری سرور اور ہارون اختر کیس

اراکین پارلیمنٹرین کی دہری شہریت شہریت کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ چودھری سرور نے برطانوی شہریت عارضی چھوڑی یا مستقل ؟۔ کیوں نہ شہریت ترک کرنے کی دستاویز کی وزارت خارجہ کے ذریعے تصدیق کروا لیں؟

چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ چودھری سرور کی جانب سے وکیل حامد خان پیش ہوئے اور کہا کہ سینٹر بننے سے قبل چودھری سرور نے برطانوی شہریت ترک کر دی تھی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہریت ترک کرنے کا سیکرٹریٹ آف اسٹیٹ کا خط دکھا دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ برطانوی شہریت چھوڑنے کی دستاویزات جمع کرا دیں، ہم دفتر خارجہ کے ذریعے اس کی تصدیق کرا لیں گے ۔

عدالت نے سابق سینیٹر اور گورنر پنجاب چودھری سرور کو برطانوی شہریت چھوڑنے کی دستاویزات جمع کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ شہریت چھوڑنے کی دستاویز تصدیق کے لیے برٹش ہائی کمیشن کو بذریعہ وزارت خارجہ بھجوائی جائے ۔ سماعت چھ ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔
دوسری جانب عدالت نے سینیٹر ہارون اختر کی دہری شہریت کے کیس میں کہا ہے کہ آئینی نکتے کی وضاحت کر کے فیصلہ دیا جائے گا کہ شہریت ترک کرنا کس وقت سے قابل قبول ہوگا ۔ اس سے قبل وکیل نے بتایا کہ ہارون اختر کے پاس کینیڈا کی شہریت تھی تاہم الیکشن سے قبل چھوڑ دی تھی ۔ جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ شہریت چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ کہاں ہے ۔ وکیل نے کہا کہ شہریت چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ تا حال نہیں ملا ۔ عدالت نے سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ شہریت چھوڑنے کے سرٹیفیکیٹ کے آئینی نقطے پر فیصلہ کریں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے