حفاظت کرنے والے اپنا کام نہیں کر رہے

مذہبی جماعت کے فیض آباد دھرنے پر لئے گئے نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ ریاست کی حفاظت کرنے والے اپنا کام نہیں کر رہے، کبھی ایک ادارے میں مداخلت ہوتی ہے کبھی دوسرے ادارے میں ۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز پر مشتمل دو رکنی عدالتی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ عدالت میں سیکرٹری دفاع بھی پیش ہوئے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ وزارت دفاع نے رپورٹ جمع کرا دی ہے، عدالت نے جو سوالات اٹھائے ان کے جوابات رپورٹ میں دیے گئے ہیں ۔

جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کیا دھرنا دینے والی تحریک لبیک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟ اس کو کب رجسٹرڈ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحریک لبیک کو دھرنے سے پہلے رجسٹرڈ کیا گیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا مسٹر اٹارنی جنرل، دھرنے پر آپ کا موقف کیا ہے؟ کیا دھرنے میں جو سرگرمیاں ہوئیں وہ قانونی تھیں؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دھرنا غیر قانونی اور غیر آئینی تھا، احتجاج کرنا أئینی حق ہے لیکن لوگوں کی آمدورفت کو مفلوج کرنا غیر آئینی ہے ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ احتجاج کرنا دھرنے والوں کا آئینی تھا لیکن جس انداز سے احتجاج ریکارڈ کیا وہ غیر آئینی تھا، قانونی مقصد کے لیے غیر قانونی اقدام بھی غیر آئینی ہو گا ۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ کیا کوئی بھی شیخص اپنی سیاسی جماعت رجسٹرڈ کروا سکتا ہے؟ ۔ اس پر کیلئے کوئی شرائط یا قانون نہیں ہے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو ہے ۔

جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ کیا الیکشن کمیشن غیر قانونی سرگرمی میں ملوث سیاسی جماعت کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کر سکتا ہے ۔

سیکرٹری دفاع اکرام الحق نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ 25 اگست کو اپنا عہدہ سنبھالا ۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ بعض چینلز کی نشریات کئی مقامات پر بند کی گئی ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نشریات کی بندش یا اخبار بند کرنے کی بات درست نہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا سچ بولتے ہوئے شرم آتی ہے، پیمرا نے خود نشریات کا بند ہونا تسلیم کیا، اگر کسی نے نشریات یا اخبار بند کیا تو کارروائی کریں ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کوئی جھوٹی شکایت کیوں کرے گا، ڈان اخبار کی ترسیل بند کی گئی، ڈان اخبار قائد اعظم نے بنایا تھا، کیا آپ کو قائداعظم سے محبت نہیں؟ ۔

اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ میرے دفتر میں قائداعظم کی 22 تصاویر ہیں، مجھے قائداعظم سے محبت ہے ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ریاست کی حفاظت کرنے والے اپنا کام نہیں کر رہے، کبھی ایک ادارے میں مداخلت ہوتی ہے کبھی دوسرے ادارے میں ۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیاسی جماعت کے کنڈکٹ کو دیکھنے کیلئے الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں، کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر کاروائی کون کرتا ہے؟ ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ۔  جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کیا ملکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والی پارٹی رجسٹرڈ رہ سکتی ہے؟ ۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ کیا القاعدہ کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن ہو سکتی ہے؟ ۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ القاعدہ پرتشدد ہونے کے باعث رجسٹر نہیں ہو سکتی ۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ کیا ریاست تشدد سے بات منوانے کی اجازت دے سکتی ہے؟ ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈی جی پیمرا عہدے پر رہنے کے قابل ہیں؟ ۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ پولیس سٹیٹ نہیں ہے، کیوں نہ میڈیا سے پوچھا جائے، جو چینل ایجنڈا فالو نہیں کرتا اسے ڈنڈا مارا جاتا ہے ۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کے اختیار پر جواب طلب کر لیا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے دھرنا آپریشن کے دوران پیمرا سے چینلز کی نشریات بندش کی رپورٹ بھی طلب کی ہے ۔ سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے