سب ججوں کا احتساب ہوگا، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کی نگرانی کیلئے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔

درخواست گزار وکیل ظفر اقبال نے کہا کہ قانون میں دیے گئے وقت کے تحت ماتحت عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں ۔ چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کے وکیل سے کہا کہ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم ہائیکورٹس کی سپروائیزی رول سے مطمئن نہیں تو پھر کیا کریں گے، ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل مظفر گڑھ کے ایک ماتحت جج سے پوچھا کتنے مقدمات نمٹائے، جج نے بتایا کہ ایک ماہ میں بائیس مقدمات نمٹائے جبکہ ہم بائیس مقدمات روزانہ نمٹاتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ جج سے پوچھا مقدمات پر فیصلوں کی رفتار کیوں سست ہے، لاہور ہائی کورٹ کی ماتحت عدلیہ کی نگرانی سے متعلق کارکردگی درست نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ تڑپ رہے ہیں کہ عدالتوں میں کام نہیں ہوتا، انصاف کیلئے لوگ بلک رہے ہیں کہ انصاف نہیں ہورہا، ہائیکورٹ کی نگران کمیٹیاں ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کو کیوں نہیں دیکھتی، کیا ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بلا کر وضاحت طلب کروں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کو بتادیں اب سب کا احتساب شروع ہوچکا، سپریم جوڈیشل کونسل مکمل متحرک ہوچکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کام نہ کرنے والے ججز کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی ہوگی، سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ایک سات ہزار مقدمات نمٹاچکا، سات ہزار مقدمات میں انسانی حقوق سیل کے مقدمات شامل نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مراعات اور گاڑیاں سب کو اچھی لگتی ہیں کام کوئی نہیں کرتا، ملک میں سفارش کی بیماری کو ختم کرنا ہوگا، قاضی کو سفارش کرنا بڑا جرم ہے ۔

عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو چیمبر میں طلب کرلیا

کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے