احتساب عدالت کو آخری مہلت

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کو نواز شریف کے خلاف زیر سماعت العزیزیہ اسٹیل اور فلیگ شپ ریفرنسز 17 نومبر تک مکمل کرنے کے لئے کہا ہے ۔ ٹرائل مدت میں توسیع کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث میں مکالمہ بھی ہوا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی بنچ نے  نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کی مہلت میں توسیع کے لیے احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک کی درخواست کی سماعت کی ۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے ریفرنسز کی سماعت مکمل کرنے کے لیے 6 ہفتوں تک مہلت دینے کی استدعا کی ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ایک سال سے ریفرنسز کی پیروی کر رہا ہوں، ریفرنسز پر سماعت تکمیل کے قریب ہے، ممکن ہے یہ عدالت آج  ٹرائل مدت میں آخری مرتبہ توسیع دے ۔

سماعت کے دوران احتساب عدالت کو ٹرائل مکمل کرنے کی مہلت دینے کے معاملے پر چیف جسٹس اور خواجہ حارث میں تکرار ہوئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تین ہفتے سے زیادہ کا وقت نہیں دیں گے ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ چھ ہفتے سے کم وقت سے مشکل پیش آئے گی، ایک ہفتہ مجھے دیدیں ذاتی کام ہے ۔

چیف جسٹس نے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ بدقسمتی سے یہ وہ کیس ہے جس نے دو بھائیوں میں تلخی پیدا کر دی ہے، آپ کو معلوم ہے وہ دو بھائی کون ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر بار آپ کی بات مانی مگر آپ نے ہر بار یہ تاثر دیا کہ نہیں مانی گئی ۔

سپریم کورٹ نے دونوں ریفرنسز کے ٹرائل کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ آخری توسیع ہے، اس کے بعد کوئی توسیع نہیں دی جائے گی ۔ احتساب عدالت دونوں ریفرنسز پر ہفتہ وار کارروائی کی رپورٹ پیش کرے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 17 نومبر تک دونوں ریفرنسز کا فیصلہ نہ ہوا تو میرا شکوہ خواجہ حارث سے ہو گا، 17 نومبر کے بعد خواجہ حارث کو ہفتہ اور اتوار کو بھی احتساب عدالت میں پیش ہونا ہوگا ۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس پر سماعت مکمل ہوچکی، سپریم کورٹ احتساب عدالت کو العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی ہدایت کرے۔ سپریم کورٹ نے نیب کی العزیز یہ ریفرنس کافیصلہ پہلے سنانے کی استدعا مسترد کردی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز زیر سماعت ہیں۔ جن کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کو دی جانے والی آخری مدت 7 اکتوبر کو مکمل ہوئی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے