کراچی ضمنی انتخاب:مختلف جماعتوں کاسیاسی مستقبل؟

عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی عام انتخابات کے بعد پہلی بار قومی اورصوبائی اسمبلی کی 3 نشستوں پر14اکتوبر کوہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج بعض کے لئے حیران کن ہیں اوربعض کے سیاسی مستقبل کو سوالیہ نشان بنادیا ہے۔
ضمنی انتخاب میں سب سے دلچسپ اور عملاً حیران کن نتیجہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے243 کارہا۔یہ نشست وزیراعظم عمران خان نے خالی کی تھی اور اس کا دوبارہ حصول تحریک انصاف کے لئے کسی امتحان سے ک نہیں تھا۔تحریک انصاف کے امیدوارعالمگیر خان نے37035ووٹ کے ساتھ میدان مار لیااگرچہ تحریک انصاف کو عام انتخابات میں ملنے والے91358 کے مقابلے میں54232 کم ووٹ ملے ہیں،مگر اس کے باوجود تحریک انصاف21601 کی برتری سے کامیاب رہی۔این اے 243میں حالیہ ضمنی انتخابات میں ملک بھر کے مقابلے میں سب سے کم ووٹ کاسٹ ہوئے جو ’’15.71‘‘فیصد ہے جو عام انتخابات میں 41فیصد تھی اور یہ حلقہ کراچی گلشن اقبال کے پوش علاقوں پر مشتمل ہے اور یہاں ماضی میں ایم کیوایم پاکستان انتخابی حوالے سرگرمیاں کافی بہتررہی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امکان تھا کہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مابین ون ٹو ون مقابلہ ہوگا مگر نتیجہ تقریباََ یکطرفہ ہی رہا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دن بھر تحریک انصاف کے مقابلے میں ایم کیوایم پاکستان کیمپوں میں رش رہا اور ان کے کارکن سر گرم رہے مگر نتائج اس کے برعکس سامنے آئے۔اس ضمن میں بعض مبصرین کا دعویٰ ہے کہ ایم کیو ایم لندن نے ایم کیو ایم پاکستان کے مقابلے میں غیر اعلانیہ طور پرمخالف تحریک انصاف امیدوار کوترجیح دی۔اورعملاً ایم کیوایم پاکستان اورپاک سرزمین پارٹی کے سیاسی مستقبل کو سوالیہ نشان بناکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گرفت آج بھی ہماری ہے۔ ان دونوں جماعتوں نے ضمنی انتخاب میں بہت کوشش کی مگر عام انتخابات میں حاصل کئے گئے ووٹ بھی حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ عام انتخابات میں ایم کیوایم پاکستان کے سید علی رضاعابدی کو24082 ووٹ ملے مگر ضمنی انتخاب میں ایم کیوایم پاکستان کے عامر ولی الدین چشتی15434ووٹ تک محدود رہے اور جو عام انتخابات کے مقابلے میں8648 ووٹ کم ہیں۔عام انتخابات میں انتخابی عمل کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات نے عملاً ایم کیوایم پاکستان کی پردہ پوشی مگرحالیہ ضمنی انتخاب نے نہ صرف ایم کیوایم پاکستان کو بے نقاب کیا بلکہ اس کے سیاسی مستقبل کو بھی سوالیہ نشان بنادیا۔
این اے 243کا حلقہ ایم کیوایم کے ماضی کے مضبوط علاقوں پر مشتمل ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کی بدترین شکست میں ایم کیوایم لندن کا کردار اپنی جگہ ہوسکتا ہے مگراس اہم اسباب ایم کیوایم پاکستان میں بدترین گروپ بندی، ’’چمڑی اور دمڑی‘‘بچائو مہم، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش اورغیر سنجیدہ سیاسی رویہ بھی ہے۔ایم کیوایم پاکستان نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو آنے والا وقت اس کے لئے بہت مشکل ہوگا۔ایم کیوایم پاکستان کے پاس دو میں سے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ یکسو ہوکر حکومتی اتحاد کا حصہ بنکر عوامی مسائل کو حل کرکے عوامی اعتماد کو بحال کرے یا پھر مکمل اپوزیشن کی مزاحمتی سیاست کرتے ہوئے سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل پر فرنٹ میں آکر کھیلے۔یہ بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو ساتھ لیکر چلنے یا نہ چلنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے۔
پاکستان سرزمین پارٹی نے عام انتخابات میں اپنی بدترین ناکامی کو مبینہ دھاندلی کی آڑمیں چھپانے کی کوشش کی مگر حالیہ ضمنی انتخاب میں مکمل آزادانہ ماحول اور شفافیت کے باوجود پاک سرزمین پارٹی کے امیدوارسید آصف حسنین کو صرف 1009ووٹ ملے ،جبکہ عام انتخابات میں پاک سرزمین پارٹی کے محمد مزمل قریشی نے3641ووٹ حاصل کئے تھے اورضمنی انتخاب میں جس طرح پاک سرزمین پارٹی متحرک تھی اس سے اندازہ تھاکہ وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہے مگرعام انتخابات میں ملنے والے ووٹوں میں 2632ووٹوں کی کمی آئی۔این اے 243کے ضمنی انتخاب نے یہ بھی ثابت کردیا کہ کوشش کے باوجود ایم کیوایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی ماضی کی ایم کیوایم کی جگہ نہ لے سکیں اور آج بھی ووٹرزپرایم کیوایم کے بانی کی گرفت ہے۔پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال کو ایک بار پھر اپنی حکمت عملی پر غور کرنا اور یہ دیکھنا چاہئے کہ آخر سندھ کے شہری علاقوں کے عوام ان کو قبول کرنے لئے تیار کیوں نہیں ہیں؟
این اے 243کا ضمنی انتخاب میں سب سے زیادہ سوالیہ نشان ابھرتی ہوئی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کا سیاسی مستقبل بنا ہےجس کے امیدوار ڈاکٹر سیدنوازالہدیٰ عام میں انتخابات میں6489ووٹ کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی اور امکان تھاکہ مذہبی اور نظریاتی ووٹ ہونے کے ناطے اس بار اس میں اضافہ نہ بھی ہوا تو کم سے کم عام انتخاب کی پوزیشن برقرار رہے گی مگرضمنی انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار ڈاکٹر سیدنوازالہدیٰ کو صرف 1542ووٹ ملے جو عام انتخابات کے مقابلے میں4947کم ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنا ہوگا۔
سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 30 خیر پور پیپلز پارٹی کا آبائی حلقہ ہے یہ نشست عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید پیر فضل علی شای جیلانی نے 39 ہزار سے ووٹ کامیابی حاصل کی اورگرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے غلام رسول 22570 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے۔نتیجہ حسب توقع رہاتاہم ووٹ کاسٹنگ شرح 51فیصد سے کم ہوکر37فیصد رہی۔پیپلز پارٹی کے سید احمد رضا شاہ جیلانی 32233 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ گریند ڈیموکرٹک الائنس کے سید محرم علی شاہ20733ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
سندھ اسمبلی کاحلقہ پی ایس 87 ملیر سندھ کا رقبے لحاظ سے سب سے بڑا صوبائی حلقہ ہے جو کراچی کے کل رقبے کے 30 سے زائد علاقے پر مشتمل ہے اور اس حلقے کا 70 فیصد سے زائد دیہی علاقے ہیں۔ یہاں بھی نتائج توقع کے مطابق ہی رہے تاہم تحریک انصاف کی جانب سے جس انتخابی مزاحمت کی توقع کی جارہی تھی وہ نظر نہین آئی ۔اس حلقے مین پیپلز پارٹی کے محمد ساجد جوکھیو 32241 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے قادر بخش خان گبول کو 12448 ووٹ ملے۔یہ دہی علاقہ ہونے کے باوجود ووٹ کاسٹنگ شرح 33فیصد رہی جوشہری حلقہ این اے243 کے مقابلے میں ڈبل سے بھی زیادہ ہے۔ کراچی کے شہری اور دہی علاقوں میں ووٹ کاسٹنگ کی شرح میں نمایاں فرق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں تحریک انصاف حتمی آپشن نہیں ہے، تحریک انصاف اعتماد پر پوری اتری تواس کا مستقبل اور بہتر ہوسکتا ہے اوراگر اس کی غیر سنجیدگی کا عمل جاری رہا تو کراچی میں اس کا سیاسی مستقبل دیگر جماعتوں سے بھی بدتر رہے گا۔

متعلقہ مضامین