ہتھکڑی استاد نہیں انتظامی عہدیدار کو لگی

اصغر مغل 
 
 
چند روز قبل پنجاب کی دو یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان کو بے ضابطگیوں، اختیارات سے تجاوز کرنے اور مالی بے قاعدگیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ انہیں ریمانڈ لینے کے لیے جب نیب کی عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑیاں دیکھ کر ہر صاحبِ دل اور صاحبِ رائے کو دکھ ہوا۔ اس دکھ کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف تھی اور اسی طرح ردِعمل بھی۔ جنابِ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی از خود نوٹس لیا، تعلیمی اور صحافتی حلقے بھی اپنے اپنے نقطہ نظر سے اس موضوع کو زیر بحث لائے ۔ چیف جسٹس سمیت زیادہ تر حلقوں نے ڈاکٹر سید مجاہد کامران، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کی نیب کورٹ میں پیشی کے طریقہ کار کو سنجیدگی سے نوٹ کیا کیونکہ ان پر لگے الزامات میں اقرباپروری، اختیارات سے تجاوز اور انتظامی امور میں بے ضابطگیاں شامل ہیں ۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پر سنگین مالی بے ضابطگیاں، بدعنوانیاں اور کروڑوں کی ہیر پھیر کا الزام ہے جن کے دستاویزی ثبوت بھی نیب نے حاصل کیے ہیں، اسی لیے ان کے حق میں، ایک دو نحیف آوازوں کے علاوہ کسی معتبر حلقے سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی ۔
2002ء میں جب قدیم اور تاریخی، گورنمنٹ کالج سرگودھا کو یونیورسٹی کا درجہ عطا کیا گیا تو پروفیسر ڈاکٹر ریاض الحق طارق صاحب کو پہلا وائس چانسلر تعینات کیا گیا اور انہوں نے اپنی تعیناتی کا حق اچھے طریقے سے ادا کیا ۔ انہوں نے اپنی انتھک محنت اور دور بینی سے، چار سال کے قلیل عرصے میں سرگودھا یونیورسٹی کو ایک معتبر حیثیت پر فائز کر دیا ۔ اس وقت پنجاب کے طول و عرض سے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے، سرگودھا یونیورسٹی سے الحاق آرزو مند تھے کہ سرگودھا یونیورسٹی کی ڈگری اور تعلیمی معیار کا ایک مقام متعین ہو چکا تھا ۔ اپنے قیام کے مختصر عرصہ میں یہ نو زائدہ یونیورسٹی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی متعین کردہ درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر پہنچ گئی جبکہ اکرم چوہدری صاحب کے آٹھ سالہ دور کے اختتام پر یہ ادارہ بدتریج تنزلی کے بعد اٹھارویں نمبر پر پہنچ گیا ۔
ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری کے پہلے چار سالہ دور میں ڈاکٹر اکرم چوہدری نے دوسری ٹرم حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی، اربابِ اختیار کی خوشنودی اور توجہ حاصل کرنے کے لیے انتھک محنت کی، یونیورسٹی کے وسائل کو اور اپنے اختیاراتِ لامحدود کو اپنے ذاتی تعلقات کی بڑھوتری کے لیے بے دریغ اور بلا جھجھک استعمال کیا ۔ ایک مخصوص مذہی لبادے والی سیاسی جماعت سے اپنے طویل تعلق کو بڑی دیانت داری سے نبھایا ۔ دائیں بازو کی مخصوص چھاپ والے صحافیوں کو بے تحاشا نوازا، اور حق بات ہے، انہوں نے بھی اپنے تبصروں اور کالموں کے ذریعے حقِ نمک پوری طرح ادا کیا، ایسی تصویر کشی کی، جسے انگریزی میں Image Building کہا جاتا ہے، کہ لگتا تھا آسمانِ علم پر آفتاب سے بھی روشن تر ایک ستارے نے جنم لیا ہے جو انتظامی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہے ۔ ایک مخصوص تعلیمی اور میڈیا گروپ نے بہترین وائس چانسلر کا ایوارڈ عطا کیا اور اس کا جشن اس طرح منایا گیا جیسے اقوام متحدہ کا کوئی ادارہ طویل تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ دنیا کے بہترین وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری ہیں ۔ ڈاکٹر اکرم صاحب کا مضمون عربی ہے لیکن فزکس، کیمسٹری، زوالوجی اور باٹنی کے مضامین میں وہ اپنی فتوحات، تحقیق اور ایجادات کے قصے، بڑے دل نشیں انداز میں سناتے اور چھپواتے رہے جو ان کی سر پرستی میں ہو رہی تھیں اور جن سے علم کی دنیا میں انقلاب کی آمد آمد تھی ۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب کا ہر مہمان، ملنے والے وفود، ان کی سرپرستی میں ہونے والی ایجادات، مثلاً سیٹیویا، 12 سے 15فٹ لمبا گنا جسے کبھی کیڑا نہ لگے، بغیر بیج کے کنو، کبھی نہ Expire ہونے والا کوکنگ آئیل وغیرہ کے متعلق اسباق سنتے تھے اور ان کے مخصوص صحافیوں کے کالموں کے ذریعے بھی فیض یاب ہوتے تھے ۔ ان ایجادات میں سے ایک ایجاد ایسی بھی تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ یہ نہ صرف یونیورسٹی آف سرگودھا بلکہ پورے ملک کی مالی مشکلات کو دور کر دے گی او ر اس ایجاد کا نام تھا فسٹیولا ٹیوب، یہ ٹیوب 10 مریضوں میں پیوسط کی گئی جن میں سے تین کی موت واقع ہوگئی سات خوش قسمت نکلے کہ ان کی موت سے پہلے اس ٹیوب کو ان کے اجسام سے نکال لیا گیا لیکن ڈاکٹر صاحب ہمیشہ اس کو ایک انتہائی مفید اور انقلابی ایجاد کے طور پر متعارف کرواتے رہے ۔
ڈاکٹر محمداکرم چوہدری کا دوسرا دور بہت پر اعتماد طریقے سے 2011 ء سے شروع ہوا، حکمران طبقہ اور حکمران جماعت کی مکمل آشیرباد اور علمی و صحافتی حلقوں میں ان کی انتظامی صلاحیتوں کی دھوم ان کے ہمراہ تھی ۔ یونیورسٹی کے اندر تعمیرات کا وسیع سلسلہ تھا جس میں میڈیکل کالج ہوسٹلز کی تعمیر بڑا پراجیکٹ تھا، فنڈز کا وسیع ذخیرہ تھا اور ڈاکٹر اکرم چوہدری اس کے امین تھے ۔ ان کی خیانت کے قصے عام ہونا شروع ہو گئے ۔ مالی بدانتظامی و بدعنوانی ہر ایک ترقیاتی منصوبے میں عیاں تھی اور اس کے حجم کا تخمینہ جو کہ مختلف آڈٹ اور انکوائری رپورٹس میں تقریباً 500 ملین کے قریب بنتا ہے ۔ میڈیکل اینڈ ڈایئگناسٹک سنٹر کا منصوبہ بغیر کسی PC-I کے شروع کر دیا گیا۔ اس منصوبے پر 200 ملین سے زائد رقم خرچ کرنے کے بعد ان کو خیال آیا کہ اس منصوبے کا PC-I منصوبہ شروع ہونے سے پہلے بنایا جانا ضروری تھا، ایسا نہ تھا کہ انہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا بلکہ وہ اپنے دوسرے دور کے آخری آیام میں ایک انجانی عجلت میں مبتلا تھے ۔ الزام ہے کہ انہوں نے اپنے زیرِ انتظام جتنے بھی منصوبے شروع یا مکمل کیے، ان میں مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازنا، ریکارڈ میں ردوبدل کرنا، منصوبو ں کی تکمیل تخمینہ شدہ رقم سے زیادہ رقم کا خرچ، ٹھیکیداروں کو مالی فائدہ پہنچانا اور یونیورسٹی کے خزانے کو نقصان پہنچانا شامل ہے ۔
ملک کے مختلف شہروں میں سرگودھا یونیورسٹی کے کیمپس قائم کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی کے تحت پہلا کیمپس ازمیر لاہور میں کھولنے کا فیصلہ بھی موصوف نے خصوصی اختیار لے کر کیا۔ یہاں پر یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کیمپس کھولنے کا اختیار صرف اور صرف یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے پاس ہے اور لاہور کیمپس کے قیام کا فیصلہ ان کے دور کے آخر ی دن تک یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے سامنے پیش نہ کیا گیا۔ لاہور کیمپس کے ساتھ یونیورسٹی کا معاہدہ اس کے قیام کے احکامات سے پہلے ہی سائن کر لیا گیا اور باقی ماندہ تمام اصول و ضوابط پامال کرتے ہوئے پہلے لاہور پھر گوجرانوالہ، منڈی بہاﺅالدین اور فیصل آباد میں کیمپس کھولے گئے اور ان کیمپس کی آڑ میں جو کاروبار ہوا، وہ ضیاءالحق کے دور کی فنانس کمپنیوں والا کاروبار ہے جس کے متاثرین ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اکرم چوہدری کے اس دور میں ان کی رعونت، سینڈیکیٹ کے ممبران نے بھی محسوس کی اور ان بے ضابطگیوں کے حوالے سے اپنی صدائے احتجاج بلند کی تو اکرم چوہدری صاحب نے نہایت مہارت سے ان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور سینڈیکیٹ کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس حد تک متنازعہ کر دیا کہ اپنے دور کے تقریباً آخری دو سال سینڈیکیٹ کا کوئی اجلاس منعقد نہ کروایا۔ نتیجتاً انہوں نے اپنی من مانیوں کا انتظام کر لیا ۔ یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق سینڈیکیٹ کے ممبران اور ڈاکٹر اکرم چوہدری کے درمیان تنازعہ کی اصل وجہ منڈی بہاﺅ الدین سب کیمپس کے قیام کی غیر قانونی منظوری تھی ۔ سینڈیکیٹ نے اپنے اجلاس منعقدہ 2013ء میں منڈی بہاﺅالدین کیمپس کی منظوری نہ دی تھی جبکہ ریکارڈ میں ردوبدل کر کے ڈاکٹر اکرم چوہدری صاحب نے اس کیمپس کو منظور کرنے کے احکامات صادر کر دئیے۔یقینا ریکارڈ میں رد و بدل بے معنی و بے مقصد نہ تھا، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی جس سے ڈاکٹر اکرم چوہدری اور مالکان منڈی بہاﺅ الدین کیمپس بخوبی آگاہ تھے اور یہ بات زبان زدِ عام تھی کہ اس کیمپس کی منظوری میں بھاری رقم کے لین دین کا معاملہ تھا۔ 
ڈاکٹر اکرم چوہدری صاحب کا کیس اس لحاظ سے بھی بڑا سنگین ہے کہ انہوں نے چند مال دار سیٹھوں کو یونیورسٹی آف سرگودھا کا نام بیچنے کا لائسنس دے دیا۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے 23پرائیویٹ کالجوں کو مختلف ایم فل پروگرامز کی اجازت دی اور ان میں سے پانچ کالجز کو سمیسٹر سسٹم کی بھی اجازت دے دی جس کا مطلب یہ تھا کہ سب کیمپسز کے ساتھ ساتھ یہ کالجز طالب علموں کے امتحانات خود ہی منعقد کرتے، خود ہی پرچے بناتے اور خود ہی مارکنگ کرتے اور آخر میں یونیورسٹی کو طالب علموں کے نمبروں کی فہرستیں بھیجتے اور یونیورسٹی کو بغیر کوئی امتحان دیے ڈگری دعوے دار بن جاتے۔ پرائیویٹ سب کیمپسز اور چند منظورِ نظر کالجز اپنی مرضی سے طالب علموں کو یونیورسٹی کی منظور شدہ تعداد سے کہیں زیادہ داخلے دیتے اور ان سے اپنی مرضی کی فیسیں وصول کرتے ان میں سے ایک پرائیویٹ سب کیمپس ایک مخصوص پروگرام میں ہر طالب علم سے یونیورسٹی کی مقرر کردہ فیس سے زائد 52000/- روپے فی سمیسٹر بٹورتا رہا اور ڈاکٹر اکرم چوہدری صاحب مسلسل مجرمانہ چشم پوشی سے کام لیتے رہے ۔ یہی کیمپس یونیورسٹی کی رجسٹریشن کے نام پر ہر طالب علم سے 15000/- روپے ہتھیاتا رہا جبکہ کہ یونیورسٹی کی رجسٹریشن فیس 1800/- روپے تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ کیمپس اب تک معصوم اور نادار طلبہ سے صرف زائد فیسوں کی مد میں 65 کروڑ روپے سے زیادہ رقم لوٹ چکا ہے۔اب اس میں ڈاکٹر اکرم چوہدری اور اس وقت کی انتظامیہ کا اس میں کتنا ہاتھ تھا یہ وہی لوگ بتا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر اکرم چوہدری کی اقربا پروری ، مالی بے ضابطگیوں و بد انتظامی کا چرچہ حال ہی کا فسانہ نہیں ہے بلکہ ان کے دوسرے دور کے آخری دو سے تین سال کے دوران ان کی بے لاگ بے ضابطگیاں اخبارات کی مسلسل زینت بنتی رہی ہیں۔ 6 جون 2016ءکے جنگ لاہور ایڈیشن میں نیب کی طرف سے ایک خبر چھپی جس میں 400 آڈٹ پیراز کا احوال درج تھا اور ان پیراز میں مالی بدعنوانی کے حجم کا اندازہ بھی پانچ ارب کے قریب لگایا گیا۔ بحر حال ڈاکٹر اکرم چوہدری اپنے بے پناہ وسائل، اپنے ہمدرد صحافی حضرات کی لابنگ اور حکمران جماعت میں اثر و رسوخ کی وجہ سے گرفت سے باہر رہے۔ ڈاکٹر اکرم کے ہمدران ماتم کناں ہیں کہ استاد کو ہتھکڑی لگ گئی۔
ڈاکٹر اکرم چوہدری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تقریباً 490 سے زائد بھرتیاں بغیر کسی اشتہار اور یونیورسٹی قوانین کے برعکس کیں ۔ اپنے عزیز و اقارب اور ان کے بچے بچیوں کو بھاری معاوضوں کے عوض مختلف عہدوں پر تعینات کیا یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو 20 سے 22 تک زائد انکری منٹس دے کر ملازمت پر رکھا۔ ڈاکٹر صاحب کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا کہ ان کے ہاتھ لگی ہتھکڑی کا معاملہ ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہتھکڑی ایک استاد کو نہیں لگی بلکہ انتظامی عہدے پر فائز ایک ایسے شخص کو لگی جس کا پیشہ ماضی میں تدریس تھا اور جس نے انتظامی عہدے کا لالچ کیا، کرپشن کی ۔ میرے خیال میں ایک استاد نے کرپشن میں ہاتھ رنگ کر نہ صرف اپنے عہدے کی توہین کی بلکہ اس پیغمبری پیشے کی بھی توہین کی ہے کہ جس کی آڑ میں اب وہ چھپنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وہ نہ صرف اپنا مجرم ہے بلکہ وہ اس معاشرے اور ان تمام اساتذہ کا بھی مجرم ہے جو اپنے تدریسی فرائض کو پیشے کے طور پر نہیں بلکہ خدمت اور عبادت کے طور پر انجام دے رہے ہیں ۔
یہ بات درست ہے کہ جو معاشرے استاد کی عزت و تکریم نہیں کرتے وہ اقوام عالم میں اپنی عزت و تکریم کو برقرار نہیں رکھ پاتے ۔ اس بات کی بھی اجازت ہرگز کسی کو نہیں دی جا سکتی کہ وہ استاد کی بے توقیری کرے لیکن اس کے لیے ایک استاد کا حقیقی معنو ں میں استاد ہونا ضروری ہے، اس کے ہاتھ کرپشن اور اقربا پروری میں ہرگز رنگے نہیں ہونے چاہئیں ۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری صاحب اچانک و بے وجہ ہی نیب کے تحویل میں نہیں آئے بلکہ ان کے مالی و انتظامی بے ضابطگیوں اور کرپشن میں ملوث ہونے پر نہ صرف آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے آفس نے مہرِ تصدیق ثبت کی ہے بلکہ ہائر ایجوکیشن کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے بھی تصدیق کی ہے ۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں قائم کی جس نے تحقیقات کے بعد اکرم چوہدری صاحب کے انتظامی و مالی معاملات کو مشکوک و غیر شفاف گردانا ہے ۔
نیب نے ان کی گرفتاری محض قیاس آرائیوں اور الزامات کی بنیاد پر نہیں کی بلکہ ان کے پاس ڈاکٹر اکرم چوہدی صاحب کی کرپشن، بدانتظامیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں ۔ 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے