چین یا امریکہ

اظہر سید
انتخاب آپ کا ہے چین کی طرف جانا ہے یا امریکہ کی طرف ۔چین کی طرف جائیں گے تو بھارتی لائین اف کنٹرول یا انٹرنیشنل بارڈر پر جتنا بلڈ اپ کرلیں چینی پاکستان پر محدود جنگ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔امریکہ کی طرف جائیں گے تو دھوکہ ملے گا ۔بعض طاقتور لوگوں کے مغربی ممالک میں زیرتعلیم یا سفید کالر ملازمتیں کرنے والے بچوں کو مالی ریلیف اور محفوظ مستقبل مل جائے لیکن پاکستان کی مشکلات بڑھتی ہی جائیں گی اور بات آخر میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر جا کر رکے گی۔
چین کی طرف جائیں گے تو وہ عالمی ادائیگیوں کے بحران سے بچا لیں گے ،وہ بیل آوٹ پیکج بھی دے دیں گے ۔امریکیوں کا انتخاب کریں گے تو پھر بھی آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج مل جائے گا لیکن اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی ۔امریکیوں نے مشکل وقت میں لائین آف کنٹرول پر باڑ لگانے پر مجبور کر دیا تھا اور بھارت کو ریلیف دلایا تھا اب وہ کشمیر کے ناپسندیدہ حل پر مجبور کریں گے ۔چینیوں نے مسلہ کشمیر پر بھارتی موقف کی کبھی حمایت نہیں کی جبکہ امریکی مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی اور حافظ صلاح الدین کو حزب مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں اور سی پیک کو بھی متنازعہ علاقہ کا منصوبہ قرار دے کر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت اور سنجیدگی ظاہر کر چکے ہیں ۔
چین کی طرف جائیں گے تو وہ آپ کو ایف ٹی اے میں بلیک لسٹ میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔امریکیوں کی طرف جائیں گے تو وہ بھی آپ کو بلیک لسٹ ہونے سے بچا لیں گے لیکن بھاری قیمت وصول کریں گے اور وہ قیمت اسٹیبلشمنٹ کے اثاثے ہیں فیصلہ کر لیں کیا آپ یہ قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
امریکیوں کی طرف جائیں گے تو وہ افغانستان میں آپ کیلئے مستقل سر درد چھوڑ کر جائیں گے اور بھارتیوں کو افغانستان میں آپ پر مسلط کر جائیں گے ۔چین کی طرف جائیں گے تو وہ سی پیک کیلئے افغانستان میں مستقل امن کیلئے ہی کردار ادا نہیں کریں گے بلکہ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت کیلئے بھی اپنا کردار ادا کریں گے ۔پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف امریکی بھارتی اتحاد نے جو جنگ مسلط کی تھی اس نے 50 ہزار سے زیادہ جانیں لی ہیں اور ایسا دور بھی گزرا ہے جب روزانہ ایک سے زیادہ خود کش حملے ہوتے تھے اور آج وہ دن آچکے ہیں افغان فوج اور انتظامیہ میں پاکستان مخالف امریکی اور بھارتی پراکسیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے ،فیصلہ آپ نے کرنا ہے افغان حکومت میں پاکستان مخالف پراکسیوں کو اسی طرح ختم کرنا ہے جس طرح قبائلی علاقہ جات میں ہمیشہ سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے والے محب وطن عمائدین کو ملک دشمن قوتوں نے چن چن کر قتل کروایا تھا ،جنوبی اور شمالی وزیرستان کے ساتھ مالاکنڈ ڈویژن پر مجاہدین قابض ہو گئے تھے ۔
امریکی ڈوبتی ہوئی معیشت ہیں اور چینی ابھرتی ہوئی معیشت ،امریکی دور ہیں چینی آپ کے ساتھ ہیں ۔امریکی بھی آزمودہ ہیں اور چینی بھی آزمودہ ۔امریکیوں نے ہمیشہ دھوکہ دیا چینیوں نے ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا۔
امریکی ایما پر مغرب نے آپ پر لڑاکا طیارے حاصل کرنا ناممکن بنا دیا تھا چینیوں نے جے ایف ٹھنڈر طیاروں کے منصوبے سے آپ کو لڑاکا طیاروں میں خود کفیل کر دیا ۔امریکیوں نے آپ پر میزائل ٹیکنالوجی کے حصول پر پابندی عائد کر دی چینیوں نے شمالی کوریا کے ذریعے آپ کو میزائل ٹیکنالوجی میں دنیا کا بہترین ترقی یافتہ ملک بنا دیا ۔
امریکیوں کی طرف جانا گھاٹے کا سودہ ہے چینیوں کی طرف جانا منافع ہی منافع ہے۔
سی پیک میں چین کے مستقبل کے خواب چھپے ہیں ۔چینیوں کو خبر ہے سی پیک پر دستخط کرنے کیلئے جب چینی صدر پاکستان آرہے تھے کن قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دھرنہ کرایا تھا۔
چینی سب جانتے ہیں بھارتی اور امریکی سی پیک کے خاتمہ کیلئے گندہ اور غلیظ کھیل کھیل رہے ہیں ۔سی پیک کے خلاف پاکستان میں جو قوتیں اور ان کے ایجنٹ اپنی پروپیگنڈہ مشنری استعمال کر رہے ہیں چینیوں کو سب پتہ ہے ۔امریکہ کا انتخاب کریں گے تو چینی افغانستان میں آپ کی مدد نہیں کریں گے ۔چین کو ناراض کیا تو بھارتی پاکستان کی رہی سہی معیشت تباہ کرنے کیلئے پاکستان پر محدود جنگ مسلط کر دیں گے ۔چین کو ناراض کیا تو وہ ایف ٹی اے میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی مذاحمت نہیں کریں گے۔
فیصلہ آپ کا ہے ایک طرف معاشی ترقی کے بے پناہ امکانات چھپے ہوئے ہیں چینی جامعات سے تین لاکھ سے زیادہ پاکستانی طلبا سکالر شپ پر تعلیم حاصل کر چکے ہیں 40 ہزار سے زیادہ طلبا اس وقت بھی چینی جامعات میں سکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ لاکھوں طلبا سی پیک کے ساتھ منسلک صنعتی زونز میں کھپنا ہیں ۔سی پیک کے خلاف امریکی بھارتی سازش کامیاب ہوئی تو جو 70 سال سے چل رہا ہے چلتا رہے گا ۔سی پیک مکمل ہو گیا تو مستقبل میں گوادر میں نیول بیس بھی بن جائے گی ۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے معاشی طاقت بھی بن جائے گا فیصلہ آپ کا ہے چین کی طرف جانا ہے یا امریکیوں کی طرف ۔سعودی آپ کو امریکیوں کی مرضی کے خلاف ایک لیٹر پٹرول بھی موخر ادائیگیوں پر نہیں دیں گے۔ وزیراعظم کی کوئی اوقات نہیں نہ یہ بھٹو ہے نہ وہاں کوئی شاہ فیصل ہے ۔ یہاں ٹریان کے متعلق امریکی عدالت کے فیصلے والا عمران خان ہے وہاں ایک صحافی کو قتل کرانے کے الزام سے بچنے کی کوشش کرنے والا ولی عہد ۔جتنے مرضی دورے کر لیں سعودی پیسے تب دیں گے جب امریکی انہیں اجازت دیں گے ۔
چینیوں کی طرف جانا ہے تو سی پیک پر جنگی رفتار سے کام کرانے والوں کو بھٹو بنانے کا عمل بند کرنا ہو گا اور وقت کو پہیے کو واپس پھیرنا ہو گا ۔ملک میں افراتفری اور انتشار پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے اور قومی یکجہتی مسائل کا حل ہے۔قومی یکجہتی کیلئے شریف برادران سے معاملات درست کرنا ہونگے ۔منظور پشین کو قومی دھارے میں لانا ہوگا اور میڈیا کو پالتو بنانے کا عمل روکنا ہو گا ۔پاکستان ہے تو سب کچھ ہے اللہ اس ملک کی حفاظت کرے ۔

متعلقہ مضامین