خبر پر ۲۰ چینلز کو نوٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بنچ ٹوٹنے اور نئے بنچ کی تشکیل کی خبر نشر کرنے والے ۲۰ نیوز چینلز کو ںوٹس جاری کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ کل دن دو بجے ان چینلز کے چیف ایگزیکٹو افسران پیش ہو کر وضاحت کریں کہ غلط اور جعلی خبر کیوں نشر کی گئی ۔ یہ بات عدالت سے جاری کئے گئے اعلامیے میں کہی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نیوز چینلز نے نیب کی اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی جگہ جسٹس مظہر عالم میانخیل کی شمولیت کی خبر نشر کی تھی ۔

عدالت سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال خرابی صحت کی وجہ سے بنچ میں شامل نہ ہوئے اور انہوں نے بنچ کا حصہ بننے سے معذرت نہیں کی ۔ ان کی جگہ جسٹس مظہر عالم کو تین رکنی خصوصی بنچ میں شامل کیا گیا ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا معطلی کے فیصلے پر نیب کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کی ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ کل دن دو بجے سماعت کرے گا ۔
قومی احتساب بیورو نیب نے نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدر کی سزا معطلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، نیب کی استدعا ہے کہ حتمی فیصلے تک ہائیکورٹ کے سزا معطلی کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ عدالت عظمی نے نیب کی اپیلوں کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ کل دن دو بجے سماعت کرے گا ۔ چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم شامل ہیں ۔ عدالت سے جاری کردہ کاز لسٹ میں پہلے اس بنچ میں جسٹس عمر عطا بندیال کا نام شامل تھا تاہم بعد ازاں جسٹس مظہر عالم کو ان کی جگہ شامل کیا گیا ۔

متعلقہ مضامین